.

فلسطینی حکومت آنے والے مہینوں میں ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فنڈز سے بجلی اور پانی کے بلوں کے بقایا جات اور اسرائیلی اسپتالوں میں طبی منتقلی اور فلسطینی اسیران اور شہدا کے خاندانوں کو دی جانے والی رقم کے عوض اسرائیل کی طرف سے کٹوتیوں کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی کی حکومت شدید مالی مشکلات سے دوچار ہے۔

گذشتہ مالیاتی بحرانوں کے دوران فلسطینی حکومت نے قرض لینے کے لیے مقامی بینکوں کا سہارا لیا لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا کیونکہ ان بینکوں کے قرضے 2.3 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

ایک بیان کے مطابق فلسطینی حکومت کو خزانے میں آنے والی محدود آمدنی کی روشنی میں بحران کے خاتمے کے لیے مالی صورتحال اور ممکنہ منظرناموں پر تبادلہ خیال کرنے" کے لیے ایک غیر معمولی اجلاس منعقد کرنے پر مجبور کیا۔

حکومت نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن اس نے کہا کہ وہ انتظامی اور مالیاتی اصلاحات کے پروگرام کے ذریعے خزانے پر بوجھ کو کم کرے گی جو عوامی خدمت میں کارکردگی کی سطح میں اضافے کا باعث بنے گی۔

حکومت نے اپنے ملازمین سے مطالبہ کیا کہ ان اقدامات کو سمجھیں جو بحران کے اثرات اور نتائج کی شکل میں سامنے آسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ دوست اور برادر ممالک کی طرف سے امداد ملے گی۔

فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے کہا کہ اتھارٹی کی مالی صورتحال کئی سال کی مشکل ترین سطح پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال آنے والی غیر ملکی امداد خزانے تک پہنچنے والی رقم کے 10 فیصد سے زیادہ نہیں تھی۔

اگرچہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے فلسطینیوں کی مالی امداد دوبارہ شروع کر دی ہے تاہم وہ فلسطینی اتھارٹی کے خزانے کو براہ راست مالی امداد دینے سے گریز کر رہی ہے جب کہ یورپی یونین نے رواں سال کے دوران اپنے مالی واجبات کی منتقلی کو منجمد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں اسے دوبارہ شروع کرے گی۔

اگلے ہفتےفلسطینی عوام کے لیے بین الاقوامی امدادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران، اشتیہ نے امداد دینے والے ممالک سے مالی امداد میں اضافہ کرنے اور اسرائیل پر فلسطینی فنڈز سے کٹوتیوں کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنےکا مطالبہ کیا۔

اوسلو کے اجلاس سے قبل عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی اس سال کے آخر تک اپنے وعدوں کو پورا نہیں کر سکے گی۔