.

اس وقت لبنان کے ساتھ معاملہ کاری کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا:سعودی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اس وقت لبنان کی حکومت کے ساتھ کسی معاملہ کاری کا ارادہ نہیں رکھتا اور اس نے لبنان کی سیاسی اشرافیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک کے سیاسی نظام پرایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ کا غلبہ ختم کرے۔

یہ بات سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اتوار کوایک انٹرویو میں کہی ہے۔ وہ لبنانی وزیراطلاعات جارج قرداحی کے یمن میں عرب اتحاد کی فوجی مداخلت کے بارے میں تنقیدی تبصروں کے بعد لبنان کے ساتھ پیدا ہونے والے سفارتی بحران کے بارے میں گفتگو کررہے تھے۔

شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے فرانس کے 24 ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ’’ہمیں اس وقت لبنانی حکومت کے ساتھ معاملہ کاری کا کوئی مفید مقصد نظر نہیں آتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی طبقے کو لبنان کو حزب اللہ کے غلبے سے آزاد کرانے کے لیے ضروری اقدامات کی ضرورت ہے۔‘‘

گذشتہ ماہ کے آخرمیں شہزادہ فیصل نے العربیہ کو بتایا تھا کہ ایران کے آلہ کاروں کی بالادستی کی وجہ سے لبنان بحران کی زد میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ مسئلہ اس سے بھی بڑا ہے۔وہ یہ کہ مسئلہ سیاسی نظام پر حزب اللہ کا مسلسل غلبہ ہے۔اس کے علاوہ لبنان میں حکومتوں، سیاسی عہدے داروں اور سیاسی رہنماؤں کی مسلسل نااہلی ہے کہ وہ اس بحران سے نکلنے کا راستہ اختیارنہیں کرسکے ہیں۔

جارج قرداحی کا کہنا ہے کہ ان کی الجزیرہ کے ایک شو میں یمن جنگ کے بارے میں گفتگو وزیر بننے سے پہلے ریکارڈ کی گئی تھی۔تاہم انھوں نے اب تک اس تنقیدی تبصرے پر معافی مانگنے یا عہدہ چھوڑنے سے انکار کیا ہے۔

حزب اللہ کے ایک رہ نما نے گذشتہ ہفتے وزیراطلاعات قرداحی کے تبصروں پرالریاض کے ردعمل کو’’مبالغہ آمیز‘‘قراردیا تھا اورسعودی عرب پرلبنان میں خانہ جنگی کا الزام لگایا تھا۔

خلیجی ریاستیں لبنان کو روایتی طور پرمالی امداد مہیا کرتی ہیں لیکن حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت سے مایوس ہوکروہ لبنان کو تباہ کن معاشی بحران سے بچانے میں مدد دینے کوتیارنہیں۔اس بحران کی جڑیں اس ننھے ملک میں گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری بدعنوانی اور بدانتظامی میں ہیں۔