.

ایران کے ایک مذہبی لیڈر کا ’ڈھٹائی‘ سے مظاہرین کے قتل عام کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نومبر 2019 کے مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی عدالتی کمیٹی کے نائب سربراہ اور عالم دین حسن نوروزی نے مظاہرین کے قتل میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں اور انہیں مار ڈالا۔ کوئی ہے جو ہمیں اس پر چیلنج کرے؟۔

یہ اعتراف "ایران مانیٹر" ویب سائٹ کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران سامنے آیا۔ انہوں نے یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب 2019 میں احتجاج کے دوران قتل عام کی لندن میں ہونے والی عالمی عدالتی تحقیقات کا آغاز ہوا ہے۔

اسی تناظر میں آیت اللہ نوروزی نے کسی مخصوص شخص کا نام لیے بغیر مزید کہا کہ نومبر 2019 ہم نے ایک احتجاجی کو بنک میں آگ لگا کر مار ڈالا۔

نومبر 2019 کے مظاہروں کے دوران ایرانی حکومت کے "جرائم" کا جائزہ لینے کے لیے لندن میں بین الاقوامی عوامی عدالت نے اب تک 4 سماعتیں کی ہیں۔

عدالت جس کا اہتمام انسانی حقوق کی تین تنظیموں ’’ایران برائے انسانی حقوق"، "ایران کے لیے انصاف" اور "سزائے موت کے خلاف ایک ساتھ"، اتوار کو ختم ہو رہی ہے۔

عدالت نے 45 گواہوں کی شہادتیں سنیں۔ 120 افراد کی شہادتیں بھی تحریری شکل میں عدالت میں جمع کرائی گئیں۔

عدالت اس بات کی تحقیقات کرنے کے لیے تیار ہے کہ آیا نومبر کے احتجاج کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ کے حکام بشمول سپریم لیڈر علی خامنہ ای، موجودہ صدر ابراہیم رئیسی اور اس وقت کے چیف جسٹس کے جرائم کو انسانیت کے خلاف جرائم تصور کیا جانا ہے یا نہیں۔

اس سے قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ایرانی وزارت خارجہ کے سیاسی معاون علی باقری نے دھمکی دی تھی کہ اگر عدالت باز نہ آئی تو جوہری معاہدے کو بحال کرنے سے متعلق جوہری مذاکرات کا کچھ حصہ معطل کر دیں گے تاہم تہران میں برطانوی سفارت خانے کے ترجمان نے بتایا کہ اس نے اس حوالے سے شائع ہونے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔