.

’سعودی شہریت کی خبر ملی تودل میں وطن کے لیے تڑپ جاگ اٹھی‘

سعودی عرب کی شہریت ملنے کی خبر پر ڈاکٹر محمد البقاعی کا رد عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں سعودی عرب کی شہریت حاصل کرنے والے ڈاکٹر محمد البقاعی کئی تاریخی کتابوں کے مترجم اور تحقیق کے لیے مشہور ہیں اور انھیں 2018 میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز انٹرنیشنل پرائز فار ٹرانسلیشن بھی مل چکا ہے۔ وہ شام کے شہر میں 1956ء میں پیدا ہوئے۔ حمص ان کا آبائی شہر ہے۔ دمشق یونیورسٹیوں سے شعبہ لسانیات میں گریجویشن کےبعد وہ اسکالرشپ پر فرانس چلے گئے۔1992 میں اعلیٰ نمبروں کے ساتھ یونیورسٹی آف لیون II سے لسانیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے طویل عرصہ پردیس میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گذارے۔ زیادہ وقت سعودی عرب میں گذرا۔

خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے جب انہیں سعودی عرب کی شہریت دینے کا اعلان کیا تو یہ اعلان ان کے لیے سرپرائز تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں البقاعی نے کہا کہ جب مجھے اور میرے خاندان کو یہ پتا چلا کہ مجھے سعودی عرب کی شہریت سے نوازا گیا ہے تو یہ خبر ہم سب کے لیے غیرمعمولی مسرت کا باعث تھی۔ ہمیں یہ خبر سن کر خوشی اور تحفظ کا احساس ہوا کہ ہم بھی سرزمین حجاز کے شہری بن گئے ہیں۔ ہمارے دل میں بھی وطن کی محبت کی تڑپ جاگ گئی۔ آج ہم ایک ایسے ملک جس کی قیادت تاریخی گہرائی سے آنے والی علامتوں میں سے ایک ہے کے شہری ہیں۔ حفاظت کا یہ احساس ہم سے صرف شکر گذاری کا نہیں بلکہ اس ملک کی مزید ترقی اور خوش حالی میں اپنے کردار اور ذمہ داریوں کا بھی احساس دلاتا ہے۔

خوشی کے جذبات

اپنے جذبات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر البقاعی نے کہا کہ سعودی عرب کی شہریت کی خبر کی خوشی حد سے زیادہ ہے۔سعودی عرب ہمارا گہرا فخر ہے۔ ہم سعودی عرب کی حکومت اور ملک کے تہہ دل سے وفادار رہے ہیں اور آْئندہ بھی رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میری دو بچیاں اور ایک بچہ ہے جو سعودی عرب ہی میں پیدا ہوئے اور یہیں کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی۔ یہ خبران کے لیے خوشی کا واقعہ ہے۔ وطن ایک قیمتی چیز ہے اور میرے بچوں کے پاس اپنا وطن نہیں تھا۔ مگر اب میری اولاد سعودی عرب کو اپنا وطن قرار دے کر خوش ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ ڈاکٹر رندا سلامہ الیافی جو شاہ سعود یونیورسٹی کے کالج آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں کے جذبات بھی کم نہیں تھی۔ یہ خبر سن کراس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے اور دل سے خادم الحرمین اور ولی عہد کے لیے دعائیں نکلیں۔

اس سوال پر کہ سعودی شہریت حاصل کرنے کا آپ کے لیے کیا مطلب ہے؟ڈاکٹر البقاعی نے جواب دیا کہ پہلے تو اس کا مطلب ہے میرے آقا، حرمین شریفین کے خادم اور ان کے قابل اعتماد ولی عہد کی طرف سے پیارا اعتماد، خدا ان کو عزت دے۔ اس کا مطلب ہے کہ مجھے اور میرے خاندان کو جو ذمہ داری سونپی گئی ہے اس کو محسوس کرنا، ہر اس چیز میں جو وطن کو چھوتی ہے، حکمران اور عوام کو زیادہ سے زیادہ عزم اور ذمہ داری فراہم کرنا ہے۔