.

کویت نے حزب اللہ سے وابستگی رکھنے والے لبنانی باشندوں کے ساتھ لین دین معطل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں لبنانی حزب اللہ کو مالی معاونت فراہم کرنے کے الزام میں لوگوں کی گرفتاری کے چند دن بعد وہاں کے ریاستی سیکیورٹی اداروں نے مختلف ممالک 100 سے زائد تارکین وطن کے ناموں کی فہرست جاری کی ہے جن کے اقاموں میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ان میں سے زیادہ تر لبنانی شہری ہیں۔ ان لوگوں کے کویت میں مزید قیام کے لیے ان کے اقاموں میں توسیع نہیں کی جائے گی۔ کویتی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے تمام لبنانی جن کا کسی نا کسی شکل میں حزب اللہ کے ساتھ کوئی تعلق رہا ہےان کے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہیں کیا جائے گا۔

کویتی اخبار "القبس" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے کچھ لبنانی تارکین وطن کا حزب اللہ سے تعلق یا ان کے پہلے یا دوسرے درجے کے رشتہ دار ہونے کا شبہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دیگر افراد دیگر قومیتوں کے ہیں جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن پر پہلے منی لانڈرنگ اور دیگر حساس معاملات جیسے سنگین الزمات میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ یہ افراد عوامی مفاد کے لیے ملک کے اندر رہنے کے لیے ناپسندیدہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔

ملک اور ان کے خاندانوں کو چھوڑ دو

ذرائع نے بتایا کہ کہ کویت میں کچھ لوگوں پر کویت میں چھ گورنریوں میں اپنے اقاموں میں توسیع کی درخواست کی۔ ان کے کاغذات کا جائزہ لیا گیا جس سے ان کے حزب اللہ سے قربت کا شبہ ہوا۔ انہیں فوری طور پر ملک اور اپنے اہل خانہ کو چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں کویت نے 8 شہریوں کے ایک گروپ کو گرفتار کیا تھا جن پر لبنانی "حزب اللہ" کے ساتھ کام کرنے اور تعاون کرنے کا الزام ہے۔

ذرائع نے اس وقت انکشاف کیا کہ یہ مقدمہ 4 مدعا علیہان سے شروع ہوا تھا، جن میں سے ایک سابق نائب کا بھائی ہے، جنہیں لبنان، خاص طور پر لبنانی حزب اللہ ملیشیا کو بڑی رقوم کی منتقلی کی اطلاع ملنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔