.

جنوبی شام میں ایران کا عسکری پھیلاؤ سست پڑ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت کے جنوب میں آج بدھ کو علی الصبح اسرائیلی حملے کے بعد جنوبی شام میں صورت حال نے دوسرا رخ اختیار کر لیا ہے۔ شامی سرکاری ٹی وی کے مطابق اسرائیل نے دو میزائل داغے جنہوں نے ایک خالی عمارت کو نشانہ بنایا۔ یہ میزائل گولان کے پہاڑی علاقے کی سمت سے داغے گئے تھے۔

ذرائع نے العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کوبتایا کہ اسرائیلی فوج نے گذشتہ تین ہفتوں کے دوران میں آٹھ حملے کیے۔ ان حملوں میں حزب اللہ ملیشیا کے مختلف نوعیت کے ہتھیاروں کی کھیپوں کو بارہا نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کے مطابق جنوبی شام میں ایران کے عسکری پھیلاؤ کی رفتار دھیمی پڑ گئی ہے۔ تاہم ایران علاقے میں محاذوں کے بنانے اور اپنے قدم جمانے کے عمل سے پیچھے ہٹتا دکھائی نہیں دے رہا۔

اسی طرح ذرائع نے باور کرایا ہے کہ شامی سرزمین پر تعینات ایرانی گروہوں کی جانب سے معاشی حالات سے فائدہ اٹھا کر جنوبی علاقوں میں اراضی خریدی جا رہی ہے۔

اس کے مقابل روس اور بشار حکومت ملک میں کنٹرول اور استحکام وسیع کرنے کے واسطے کوشاں ہیں۔ فریقین اس وقت ترکی کے ساتھ شمالی محاذ پر مصروف ہیں۔

ان اعداد و شمار کے باوجود اسرائیلی فوج کی سالانہ سیکورٹی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے شمالی محاذوں پر بھرپور جنگ بھڑکنے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ غزہ کا محاذ اس حوالے سے زیادہ قابل اشتعال ہے۔

ذرائع نے باور کرایا ہے کہ اسرائیلی سیکورٹی کے بجٹ میں جامع تربیتی مشقیں اور ٹکنالوجی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا شامل ہے۔ اس کا مقصد ایرانی خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔