.

اسرائیلی شین بیت کا وزیردفاع گینزکے گھریلوعملہ پرایران کے لیے جاسوسی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی داخلی سکیورٹی سروس شین بیت نے اپنے ہی وزیردفاع بینی گینزکے گھریلوعملہ کے ایک رکن پرجاسوسی کا الزام عاید کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس شناخت شدہ شخص نے ملک کے ازلی دشمن ایران کو جاسوسی کی پیش کش کی تھی۔

شین بیت سکیورٹی سروس نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس مشتبہ اسرائیلی نے سوشل میڈیا پر ایک بے نام شخص سے مراسلت کی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ اس نےثبوت کے طورپرگینز کے گھرمیں لی گئی بعض تصاویرفراہم کی ہیں جس تک اس کی رسائی تھی اور گینز کے کمپیوٹر پرمیلاویئرانسٹال کرنے کی بھی تجویز پیش کی تھی۔

واضح رہے کہ تہران کےجوہری پروگرام پرایران اوراسرائیل کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اسرائیلی حکام کاکہنا ہے کہ ایران خطے میں اسرائیل کے دشمنوں کی حمایت کررہا ہے اورایران نے اسرائیل پر اپنی جوہری تنصیبات کوتخریبی حملوں میں نشانہ بنانے کا بھی الزام عاید کیا ہے۔

شین بیت نے بتایا کہ گینزکی رہائش گاہ میں گھریلودیکھ بھال اورصفائی کے کام پرمامورمشتبہ شخص پرتل ابیب کے قریب واقع شہرلد کی ایک عدالت نے جاسوسی کے الزامات میں فردِجُرم عاید کردی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس شخص کواس ماہ کے اوائل میں تحقیقات کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

فوری طورپریہ واضح نہیں ہوا کہ آیااس نے قصور وار ہونے کی کوئی درخواست دائرکی ہے۔وکیل صفائی کے دفترنے اس مشتبہ شخص کی قانونی مدد کے لیے ایک وکیل تفویض کیا تھا۔اس کا کہنا ہے کہ یہ مشتبہ شخص ’’مالی دباؤ‘‘کے زیراثرآگیا تھااور اس کا مقصداسرائیل کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔

عدالت میں اس مشتبہ جاسوس کی نمائندگی کرنے والے وکیل گال وولف نے کان عوامی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مؤکل دراصل کوئی جاسوسی کیے بغیر (ایرانی سے)رقم اینٹھنا چاہتاتھا۔

وولف نے کہا کہ ایک شخص اس طرح کے معاملے میں یہ توکَہ سکتا ہے کہ وہ سامان پہنچا سکتا ہے، (لیکن) شین بیت کا بیان حقیقت کی کسوٹی پرپورا نہیں اترتا۔

اپنے اعلان میں شین بیت نے کہا کہ ’’اگرچہ مشتبہ شخص قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرے کا موجب ہوسکتا ہے لیکن اس کی ’’کلاسیفائیڈ مواد‘‘ تک رسائی نہیں تھی۔چناں چہ اس کی طرف سے ان عناصر کوکچھ بھی منتقل نہیں کیا گیا جن سے وہ رابطے میں تھا۔‘‘