.

"پانی کے بدلے بجلی" اماراتی شراکت سے اسرائیل- اردن کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر توانائی نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ ان کا ملک اردن، متحدہ عرب امارات اور امریکا کے ساتھ مشترکہ ماحولیاتی منصوبوں کا مطالعہ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا یہ ممالک اگلے ہفتے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کریں گے۔

ایک باخبر ذریعے نے خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ ان منصوبوں میں اسرائیل کی مارکیٹ کے لیے اردن میں شمسی توانائی کی پیداوار شامل ہو سکتی ہے جس کے بدلے میں اردن کو اس کی فراہمی کے لیے بحیرہ روم کے پانیوں کو صاف کرنا پڑے گا۔

باخبر اسرائیلی ذرائع نے منگل کے روز امریکی نیوز ویب سائٹ"ایکسیوس" کو بتایا کہ اسرائیل، اردن اور متحدہ عرب امارات، امریکی موسمیاتی ایلچی جان کیری کے تعاون سے اردن کے صحرا میں ایک بہت بڑا شمسی توانائی پلانٹ تعمیر کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ اب تک کا سب سے بڑا علاقائی تعاون پروجیکٹ ہوگا کیونکہ یو اے ای کی مالی اعانت سے چلنے والے منصوبے میں بنیادی طور پر اسرائیل کو توانائی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو اردن کو پانی کی فراہمی کے لیے بحیرہ روم کے ساحل پر پانی صاف کرنے کا پلانٹ بنائے گا۔

اس معاہدے پر اگلے پیر کو دبئی میں اسرائیلی وزیر توانائی کارین الحرار، اردن کے وزیر پانی رائد ابو السعود اور اماراتی وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید کی موجودگی میں دستخط کیے جانے والے ہیں۔ اس پروجیکٹ کی کامیابی میں امریکی ایلچی جان کیری کا کلیدی کردار ہے۔

پروجیکٹ کے اہداف

پراجیکٹ پلانز کا مطالبہ ہے کہ سولر فارم کو 2026 تک فعال کیا جائے اور 2030 تک اسرائیل کی توانائی کا 2 فیصد پیدا کیا جائے۔ اسرائیل سالانہ 180 ملین ڈالر ادا کرے گا جسے اردنی حکومت اور اماراتی کمپنی کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔

یہ معاہدہ بجلی کے معاہدے کو اردن سے پانی کی مزید خریداری سے مربوط ہے کیونکہ اردن اسرائیل سے پانی کی مقدار کو دوگنا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ معاہدہ تینوں حکومتوں کے درمیان خفیہ مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آیا جس پرستمبر کے بعد مذاکرات شروع ہوئے۔

ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق کے مطابق، ابتدائی طور پر اس معاہدے پر دو ہفتے قبل گلاسگو میں COP26 موسمیاتی کانفرنس کے دوران دستخط کیے جانے تھے لیکن اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے اسرائیل میں بجٹ ووٹنگ سے کچھ دن قبل ملکی سیاسی حالات اورتنقید کے خوف سے دستخط کرنے میں تاخیر کی درخواست کی۔