.

شیر خوار بچے کی جان بچانے والی سعودی نرس کی العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہر دمام میں ایک سعودی خاتون نرس نے اپنے جگر کا ایک حصہ عطیہ کر کے ایک برس سے بھی کم عمر بچے کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مذکورہ نرس کا خواب تھا کہ وہ اپنا کوئی عضو کسی دوسرے انسان کو عطیہ کرے۔

فتحیہ عسیری مشرقی صوبے کے شہر دمام میں کنگ فہد اسپیشلسٹ ہسپتال میں شعبہ اطفال (بچوں کے شعبے) میں کام کرتی ہیں۔ انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "بچپن سے ہی میرا یہ خواب تھا کہ میرا زندگی میں کوئی کردار ہو۔ میں نے اعضاء کے عطیے کی ایثار سوسائٹی میں ایک سال تک بطور رضا کار کام کیا۔ اس وقت سے میرے دل و دماغ پر اعضاء عطیہ کرنے کی سوچ سوار ہو گئی۔ اس سے قبل مجھے یہ بات معلوم نہ تھی کہ زندہ لوگ بھی اعضاء عطیہ کر سکتے ہیں"۔

فتحیہ نے مزید بتایا کہ کنگ فہد اسپیشلسٹ ہسپتال میں بطور نرس کام کرتے ہوئے میں روزانہ ایسے بچوں کی خوشی کا عالم دیکھتی ہوں جو کامیاب پیوند کاری کے بعد گھروں کو جا رہے ہوتے ہیں۔ لہذا میں نے بھی اپنا نام اعضاء کے عطیہ کنندگان کی فہرست میں درج کروا لیا۔ کرونا کی وبا کے بعد صورت حال بہتر ہوئی تو مجھے ایک 11 ماہ کے بچے کے لیے عطیے کا موقع مل گیا۔ یہ بچہ جگر کے اندر ریشہ دار بافت بننے کے مرض سے دوچار تھا۔ اس کے تمام ٹیسٹ ہوئے اور اس کے بعد پیوند کاری کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔

سعودی نرس کے مطابق مذکورہ بچے کو جگر کا حصہ عطیہ کرنے کے بعد اسے حاصل ہونے والی مسرت الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔