.

برطانیہ اور یورپ میں حماس کے مالیاتی فنڈ کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیر داخلہ پریتی پٹیل نے کل جمعے کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے فلسطینی تنظیم حماس پر مکمل پابندی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

خاتون وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ "حماس واضح انداز میں دہشت گردی کی صلاحیتوں کی حامل ہے اور اس کی حساس ہتھیاروں کے وسیع ذخیرے تک رسائی بھی ہے"۔ ان کا مزید کہنا تھا "حماس کے پاس جدید ہتھیار رکھنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی تربیت دینے کی سہولیات بھی موجود ہیں"۔

برطانیہ نے 2001ء میں حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ تاہم اس مرتبہ مکمل تنظیم پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہ پابندی برطانوی دہشت گردی کے قانون کے تحت لگائی گئی ہے اور اب کوئی بھی شخص اس تنظیم کی کھلے عام یا ڈھکے چھپے انداز میں حمایت نہیں کر سکے گا۔ اس کے علاوہ حماس کا جھنڈا لہرانے کی بھی ممانعت ہو گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی جمع کردہ معلومات کے مطابق حماس کی برطانیہ میں مالیاتی اور سرمایہ کاری سے متعلق سرگرمیاں ہیں۔ ان میں بعض سرگرمیاں الاخوان تنظیم کی شراکت داری میں اور بعض انفرادی صورت میں ہیں۔

معلومات کے مطابق حماس نے مالیاتی اور میڈیا ونگ بنا کر اور اقتصادی اداروں کے ذریعے خلیج ، امریکا اور برطانیہ میں وسیع ترین پیمانے پر عطیات اکٹھا کیے اور پھر ان مالی رقوم کو وہاں سے نکال لیا۔ اس مقصد کے لیے حماس نے 3 نام اور 3 شعبے مختص کیے۔ ان میں "جنرل سیکریٹریٹ اور رابطوں کا شعبہ"، "منصوبہ بندی اور تحقیق کا شعبہ" اور "سیکورٹی کا شعبہ" شامل ہیں۔ پہلے شعبے کی قیادت حافظ عجاج الکرمی، دوسرے شعبے کی قیادت محمد کاظم صوالحہ اور تیسرے شعبے کی قیادت ماہر جواد صالح کے ہاتھوں میں رہی۔

حماس تنظیم برطانیہ میں ریئل اسٹیٹ کی کمپنیاں بھی رکھتی ہے۔ انہیں فلسطینی نژاد عبدالرحمن ابو دیہ چلاتا ہے۔ وہ پراپرٹی کے علاوہ میڈیا کمپنیوں کا بھی مالک ہے جو اخوان المسلمین کے سیٹلائٹ چینلوں کی فنڈنگ میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ چینل ترکی کے شہر استنبول اور ہالینڈ میں ویب پلیٹ فارموں سے نشر ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ حماس نے "إغاثة فلسطين" (فلسطین کی مدد) کے نام سے ایک فنڈ بھی قائم کر رکھا ہے۔ اس کا صدر دفتر لندن میں ہے اور اس دفتر کو "انٹر پیل" کا نام دیا گیا ہے۔ یہاں مسئلہ فلسطین کو سہارا دینے کے لیے مالی عطیات جمع کیے جاتے ہیں۔ ان رقوم کا ایک بڑا حصہ حماس اور اخوان کی مسلح کارروائیوں پر خرچ ہوتا ہے۔ ان کارروائیوں کی نگرانی فلسطینی نژاد عصام یوسف کے ہاتھ میں ہے۔

اسی طرح حماس تنظیم یورپ میں اقتصادی ادارے رکھتی ہے تا کہ عطیات کی رقوم جمع کر سکے۔ ان میں " الارض المقدسۃ فاؤنڈیشن" شامل ہے۔ اس کی یورپ میں شاخیں ہیں جن کے ذریعے تنظیم لاکھوں ڈالر اکٹھا کرتی ہے۔

اسی طرح حماس فرانس میں "الاقصى فنڈ" ، سویڈن میں "سنابل الأقصى" فاؤنڈیشن ، ہالینڈ میں "الاسراء" فاؤنڈیشن، سوئٹزر لینڈ میں دو فنڈوں "ASB"، اور "SHS" ، اطالیہ میں "ABSBB" فنڈ اور آسٹریا میں دو فنڈوں کی مالک ہے۔

اگرچہ بعض یورپی ممالک کی حکومتوں نے مذکورہ فنڈوں میں سے بعض پر پابندی عائد کر رکھی ہے تاہم حماس نے نئے ناموں اور نئی شخصیات کے ساتھ دوبارہ سے یہ فنڈ قائم کر لیے۔ اس کا مقصد یورپ میں موجود مسلمانوں اور عربوں سے مالی رقوم اکٹھا کرنا ہے۔