.

بنک آف اسرائیل کاشرح سُود برقرار رکھنے کامتوقع فیصلہ؟تجزیہ کاروں کا کٹوتی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یہ توقع کی جارہی ہے کہ بنک آف اسرائیل اس ہفتے قلیل مدتی شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔اس کا اس طرح کا یہ مسلسل تیرھواں فیصلہ ہے۔بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مرکزی بنک کو اسرائیلی کرنسی شیکل کی ڈالر کے مقابلے میں بڑھتی ہوئی قدرکوروکنے کے لیے شرح سُود میں کمی کرنی چاہیے۔شیکل ڈالر کے مقابلے میں اس وقت 26 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق 16 ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ مرکزی بنک کی مالیاتی پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) پیر کوشام 4 بجے جب اپنےفیصلے کا اعلان کرے گی تو وہ بینچ مارک کی شرح کو 0.1 فی صد کی کم ترین سطح پربرقراررکھے گی۔

سات اکتوبر کواس کمیٹی کے گذشتہ اجلاس سے قبل تجزیہ کاروں کاخیال تھا کہ اگلی تبدیلی 2022 کے اوائل میں افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح اور وسیع پیمانے پرکووِڈ-19 کی ویکسین لگانے کی وجہ سے تیزی سے معاشی بحالی کی وجہ سے اضافہ ہوگی۔ ایم پی سی کے ایک رکن نے اس اجلاس میں شرح سود کو0۰25فی صد تک بڑھانے کے لیے ووٹ دیا تھا۔

اس کے بعد سے اسرائیلی کرنسی شیکل نے 1995 کی سطح کے آخرتک ڈالرکے مقابلے میں 7 فی صد تک کا اضافہ ہوا ہے اوروبا کے آغازکے بعد یہ سب سے بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ابھرتی ہوئی کرنسی ہے جبکہ اکتوبر میں افراط زراورتیسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نموتوقع سے کم تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ مالیاتی کمیٹی کے اجلاس میں اہم توجہ اس بات پرمرکوز ہوگی کہ اکتوبرکے آخرمیں بنک کا 30 ارب ڈالر کی غیرملکی کرنسی خریدنے کا منصوبہ ختم ہونے کے بعد شیکل سے کیسے نمٹا جائے، حالانکہ اس کے بعد سے کچھ مداخلت ہوئی ہے۔

برآمد کنندگان کی ناراضی کے باوجود پالیسی سازوں نے شیکل کو مضبوط ہونے دیا ہے کیونکہ اس سے درآمدی قیمتوں میں کمی آتی ہے اور افراطِ زرپرقابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

ایکسی لینس انویسٹمنٹ ہاؤس کے چیف اکانومسٹ عامر کہانووچ کا کہنا ہے کہ’’بنک کی جانب سے شرح سود میں کمی کی بہت سی وجوہات ہیں،ان میں بعض یہ ہیں:شیکل کی قدر میں اضافہ، افراط زرمیں اعتدال، کروناوائرس کا دوبارہ پھیلناوغیرہ۔ لیکن امکان ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی جس کی بنیادی وجہ دیگرمرکزی بنکوں کی جانب سے شرح سود میں اضافہ ہے‘‘۔

اسرائیل میں افراطِ زر کی شرح اکتوبرمیں کم ہوکر 2.3 فی صد رہ گئی تھی۔ستمبرمیں یہ آٹھ سال کی بلند ترین سطح 2.5 فی صد تھی جو حکومت کے 1 سے 3 فی صد سالانہ ہدف کے اندر رہی تھی۔

بانڈ کے حاصلات کی بنیاد پر اگلے 12 ماہ میں یہ شرح 2.8 فی صد تک پہنچنے کا امکان ہے حالانکہ ماہرین معاشیات نے اوسطاً 1.8 فی صد کی پیشین گوئی کی ہے۔گذشتہ تین ماہ کے دوران میں تیسری سہ ماہی میں معیشت میں سالانہ 2.4 فی صد اضافہ ہوا جومتوقع 6 فی صد سے بہت کم ہے۔ حکومت اورمرکزی بنک دونوں نے 2021ء میں معاشی شرح نمو میں سات فی صد اضافے کی پیشین گوئی کی ہے۔