.
یمن اور حوثی

ایرانی تیل کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ میں حوثی کمپنیاں ملوث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک آزاد یمنی اینی شی ایٹیو نے یمنی تجارتی کمپنیوں کی مقامی بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کے ساتھ ایرانی تیل کی اسمگلنگ اور حوثی ملیشیا کو لامحدود ایرانی حمایت کے ساتھ آئینی حکومت کے خلاف جنگ میں مالی امداد کے حق میں منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے۔

"بحالی" اقدام کی طرف سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ [جس کا تعلق حوثی باغیوں کے منصوبہ سازوں کے لوٹے گئے فنڈز اور املاک کی سرگرمیوں کا سراغ لگانے سے ہے] میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں نے یمنی تاجروں کو دور جب کہ ملیشیا کے قریب سمجھے جانے والے دیگر افراد کو اوپر لانے کے لیے کام کیا۔ بین الاقوامی اور امریکی پابندیوں کو روکنے کے لیے تیل کمپنیاں قائم کیں اور اپنے خزانے بھرنے اور ملک میں تنازعے اور جنگ کو طول دینے کے لیے مالی رقوم حاصل کیں۔

اس اقدام نے اپنی 53 صفحات پر مشتمل نئی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ حوثیوں کی جانب سے تقریباً 30 کمپنیاں ایرانی تیل کی درآمد کے لیے ایک محاذ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں جن میں سے کچھ آزاد کرائے گئے علاقوں میں کام کرتی ہیں۔

ثالث کمپنیاں

اینی شی ایٹیو نے وضاحت کی کہ یہ کمپنیاں ثالث کمپنیوں کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ اس کے بدلے میں سٹیشنوں پر قیمت خرید اور فروخت کی قیمت کے درمیان بڑے فرق کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ثالثی کمپنیاں دوسرے اور تیسرے درجے کے حوثی رہ نماؤں کے ناموں پر نئے کاروباری افراد کے طور پر رجسٹر کی گئیں اور ان کے کنٹرول میں کمرشل بینکوں میں ان کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولے گئے، جب کہ انھوں نے سینٹرل بنک میں اینٹی منی لانڈرنگ ڈیپارٹمنٹ میں خلل ڈالا اور ان کمپنیوں کے مالکان کے فنڈز اور سرمائے کے ذرائع کی تحقیقات کو نظر انداز کر دیا۔

حوثی ملیشیا کے ترجمان کا بھائی ملوث

محمد عبدالسلام
محمد عبدالسلام

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ان درمیانی کمپنیوں میں سب سے نمایاں سٹار پلس اور بلیک ڈائمنڈ ہیں جو حوثی گروپ کے سرکاری ترجمان محمد عبدالسلام کے بھائی صلاح فیلیتا کی ملکیت ہیں۔ بلیک ڈائمنڈ کمپنی متعدد اداروں سے منسلک ہے۔ دیگر کمپنیوں کے، بشمول "زراکون کمپنی برائے امپورٹ اینڈ ٹریڈ سینٹر‘اور ٹاپ فوڈ کمپنی، اور گڈ ہائپر کمرشل کمپنی، جن کے بینکوں کے بین الاقوامی معیارات کے مطابق تحقیقات یا آڈٹ کیے بغیر کاروبار کرنے کے لیے بینکوں میں اکاؤنٹس کھولے گئے۔

اس کے علاوہ ایسے بینک بھی ہیں جنہوں نے حوثیوں کو بڑی سہولیات فراہم کیں، بینک اکاؤنٹس اور جعلی چیک بنا کرجاری کیے۔ حوثی رہ نما ابراہیم مطہر الموید حوثی گروپ کے مالیاتی ڈائریکٹر اور اس کے سربراہ کے حق میں بیلنس منتقل کیا۔ حوثیوں کی وزارت دفاع کے فنانس ڈپارٹمنٹ میں ایک ایسا قدم جس کا مقصد ان چیکس اور اکاؤنٹس کے ماخذ کو چھپانا ہے جو سرکاری سمجھے جاتے ہیں اور یمن کے مرکزی بینک کے ساتھ اوور ڈرا بیلنس کے ساتھ نکالے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ان بینکوں کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات بلیک ڈائمنڈ کمپنی کے نام پر تھیں جس نے الشرافی آئل ڈیریویٹوز ٹریڈنگ کمپنی سمیت ایک سے زائد کمپنیوں کو بھی رقوم منتقل کیں۔