.
جوہری ایران

ایران جوہری سمجھوتے کے تقاضوں کی مکمل پاسداری کرے: سعودی مندوب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) میں سعودی مندوب شہزادہ عبدالله بن خالد بن سلطان نے زور دیا ہے کہ ایران کی جانب سے جوہری سمجھوتے کی پاسداری اور سیاسی بات چیت کو جوڑنا نہیں چاہیے۔

سعودی مندوب نے مطالبہ کیا کہ ایران کی باعث تشویش پالیسی پر روک لگائی جائے۔ مندوب کے مطابق ایران کی یہ پالیسی عالمی برادری کو بلیک میل کرنے کے لیے اپنے جوہری پروگرام سے فائدہ اٹھانے پر مبنی ہے۔

شہزادہ عبداللہ نے اس بات کی اہمیت پر بھی زور دیا کہ آئی اے ای اے کی گورنرز کونسل کے ارکان کو ان معاملات کے حل اور ایجنسی کے اختیارات کی واپسی کے لیے زیادہ ٹھوس موقف اپنانا ہو گا۔

سعودی مندوب نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ جوہری سمجھوتے کی مکمل پاسداری کرے اور جارحیت کی روش سے ترک کردے۔

اس سے قبل آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گراسی نے ایرانی ذمے داران کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ ملاقات کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا تھا کہ وہ اپنی جوہری تنصیبات میں ایجنسی کے معائنہ کاروں کے داخلے پر عاید پابندیاں ختم کر دے۔ اس لیے کہ جوہری معاہدے کے حوالے سے تہران اور عالمی قوتوں کے بیچ بات چیت کے دوبارہ آغاز کاوقت قریب آ رہا ہے۔

ایرانی اخبار تہران ٹائمز نے منگل کے روز بتایا کہ گراسی سے ملاقات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عبد اللہيان کا کہنا ہے کہ "آئی اے ای اے کو اپنا تکنیکی کام اُن فرائض کے دائرہ کار میں انجام دینا ہو گا جن کا اسے ذمے دار بنایا گیا ہے ... ایجنسی کو سیاسی مؤقف اپنانے سے رکنا ہو گا"۔