.

حوثیوں کا یمن میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا ایک مجرمانہ فعل ہے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل بروز منگل سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں امریکی سفارت خانے کے صدر دفتر پر دہشت گرد حوثی ملیشیا کے حملے اور سفارت خانے کے متعدد ملازمین اور کارکنوں کو حراست میں لیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ نے سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے ذریعے شائع ہونے والے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ "دہشت گرد حوثی ملیشیا کی طرف سے کیا گیا یہ مجرمانہ فعل بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے برادر ملک یمن میں دہشت گرد حوثی ملیشیا کی طرف سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کے سامنے بین الاقوامی برادری کے ثابت قدم رہنے کی اہمیت اور ایک جامع سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے بین الاقوامی قراردادوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔

امریکی حکام نے کہا تھا کہ ان کے خصوصی ایلچی ٹم لینڈر کنگ کی کوششوں سے امریکی سفارت خانے کے 30 یمنی ملازمین کو رہا کیا گیا جو کہ 2015 سے بند ہے۔

قابل ذکر ہے کہ حوثیوں کے یمنی دارالحکومت پر قبضے کے بعد 2015 سے امریکی سفارت خانہ بند ہے لیکن کچھ یمنی ملازمین گھر سے کام کرتے رہے یا عمارتوں کے محافظ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔