.

سعودی عرب میں زیر آب نوادرات کی تلاش کا پہلا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ’ریڈ سی ڈیولپمنٹ کمپنی‘ جو دُنیا میں قابل تجدید سیاحتی منصوبوں میں سے ایک کی ڈیولپر اور سعودی عرب کی وزارت ثقافت نے نوادرات، ورثے، تاریخ اور پائیدار سیاحت کے شعبوں میں اپنی مشترکہ کوششوں کو یکجا کرنے کے لیے تعاون ایک مشترکہ منصوبے پر دستخطکیے ہیں جس کا مقصد زیرآب آثار قدیمہ کی تلاش ہے۔

ثقافتی ورثے اور عجائب گھروں کے کمیشن کی طرف سےنائب زیرثقافتت حامد فائز اور بحیرہ احمر کی ڈویلپمنٹ کمپنی کے ’سی ای او‘ جان پگانو نے مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط کیے۔ مفاہمتی یاداشتوں میں متعدد اقدامات کے ذریعے مشترکہ تعاون کی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے کا عزم کیا گیا ہے جس میں پہلی بار سعودی عرب میں زیر آب آثار قدیمہ کی کھدائی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

اس تناظر میں ریڈ سی ڈیولپمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ’جان پگانو‘ نے کہا: "سعودی عرب کا بحیرہ احمر کا ساحلی علاقہ اپنی بھرپور تاریخ اور ورثے کے لیے مشہور ہے۔ صدیوں تک یہ علاقہ تجارتی راستے کے طورپر استعمال ہوتا رہا ہے۔ ہیریٹیج اینڈ میوزیم کمیشن ہمیں اس منفرد علاقے کی تاریخی اہمیت کو دریافت کرنے اور اپنی دریافتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا موقع دے گا اور اس سے بحیرہ احمر کی قدرتی خوبصورتی اور غیر معمولی تاریخی اہمیت کو فروغ دینے کے لیے ریڈ سی ڈیولپمنٹ کمپنی اپنے دوسرے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

سعودی عرب کی جڑیں جزیرہ نما عرب کی قدیم ترین تہذیبوں سے ملتی ہیں۔ صدیوں کے دوران یہ سرزمین اسلام کا گہوارہ ہونے کے ساتھ بحیرہ روم کے خطے میں ایک بڑا تجارتی راستہ رہا۔اس راستے سے مسالے دیگر اشیاء کے مشرقی اور جنوبی روٹس سے ذرائع سے جوڑنے والے ایک قدیم تجارتی مرکز کے طور پر تاریخ کے صفحات لکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

زیرآب آثار قدیمہ کی کھدائی کا پہلا منصوبہ

بحیرہ احمر کے ساحلی پانیوں میں تاریخی اہمیت کے بہت سے نمایاں مقامات ہیں، یہ شراکت داری ریاست میں زیرِ آب آثار قدیمہ کی کھدائی کے پہلے منصوبوں کو لاگو کرنے کے لیے ناپولی یونیورسٹی "لورینٹل" کی قیادت میں ایک مہم کو روانہ کرنے میں سہولت فراہم کرگی۔

اس سلسلے میں ملبے کی کھدائی کی مہم کے ڈائریکٹراور اٹلی کی ناپولی یونیورسٹی "لورینٹل" میں میرین آرکیالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر چیارا ززارو نے کہا کہ ڈوبنے والا لکڑی کے جہاز کا ملبہ آج بھی محفوظ اور سلامت ہے اور پر لادے گئے سامان میں جار، چینی مٹی کے برتن اور مسالوں سے لدا ہوا ہے۔ یہ جہاز 18ویں صدی کا ایک تجارتی جہاز تھا جو اس وقت کی تجارتی سرگرمیوں کا گواہ ہے۔

یہ جہاز1725 اور 1750ء کے درمیان بحیرہ الوجہ میں ڈوبنا۔اس کا ڈھانچہ 20-22 میٹر پانی کے اندر موجود ہے اور اس کا لکڑی کا ڈھانچہ اب بھی ایک ہزار سے زائد جگوں پر مشتمل ایک کیلسیفائیڈ ماس کے پاس سمندری تہہ پر پڑا ہے۔ ملبے کی لمبائی 40 میٹر اور چوڑائی 10 میٹر ہے اور اس میں ایک مستقل پے لوڈ ہے جس کا وزن 1,000 ٹن تک ہو سکتا ہے۔تمام نمونے جدہ کے بحیرہ احمر کے عجائب گھر میں کی فہرست میں محفوظ جائیں گے۔