.

لوک گیت جو ریاض کے مکینوں کے دلوں میں رچ بس گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی لوک گیتوں نے دارالحکومت ریاض کے مکینوں کے دلوں میں فن اور موسیقی کی یاد ان کے دلوں میں راسخ کردی ہے۔ نغموں کی شکل میں یہ آرٹ لوک گیتوں اور مقامی نغمں کے ذریعے ایک سے دوسری نسل کو منتقل ہوتا رہا ہے۔ بعض لوگوں کے خیال میں لوک گیت بھی مخطوطے ہیں جن کا تانا بانا صوتی آہنگ ہے۔

یہ لوک گیت صرف گانے ہی نہیں بلکہ ان میں ساز و رباب کے ساتھ سماجی زندگی کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں۔

اس تناظر میں آرٹ کے نقاد عبدالرحمٰن الناصر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفت گو کرتے ہوئے کہا کہ مشہور مقبول فنکار بشیر شانان نے ایک باصلاحیت گیت کا نمونہ پیش کرتے ہوئے اپنے معاصر فن کاروں کو پیچھے چھوڑ دیا کیونکہ اس نے سعودی عوامی خصوصیات کے مطابق نغمے میں ایک بشریاتی نقطہ نظر پیش کیا اور ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں معاشرے کی خصوصیات، دلچسپیوں اور رویوں کا ظہار کیا۔ یہ طرز کسی اورنغمہ نگار کے ہاں شاذ ہی دیکھنے کو ملا ہے۔

ناصر نے بتایا کہ بشیر 11 سال تک اپنے گانوں کے ذریعے ریاض شہر کا جغرافیائی نقشہ بنانے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس گیت کی منصوبہ بندی میں ایسے حصے شامل ہیں جو بشریات میں تحقیق اور مطالعہ کا آغاز بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے جو ڈرامائی اور سماجی کہانیاں دستاویز کی ہیں وہ مختلف معانی پر مبنی تھیں۔

ریاض کی کالونیاں

انہوں نے کہا کہ فنکار جو 28 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگیا نے گانے "شاہراہ الخزان "میں ایسے الفاظ استعمال کیے جو کہ سننے والے کو یہ بتاتے ہیں کہ اس کی محبوبہ عرب شہریت سے تعلق رکھتی ہے۔ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ محلہ گانے کی ریلیز کے دوران عرب کمیونٹی سے آباد اور اس گانے سے مانوس تھا۔

جہاں تک گانے "یا اہل الشمیسی" کا تعلق ہے بشیر نے ایک بھاری آرام دہ تال کو ترجیح دی جو پڑوس میں رہنے والے لوگوں کی فطرت کے مطابق ہے۔

ممتاز اور غیر معمولی فنکاروں کے ساتھ بشیر کی سربراہی میں لوک گیت وقت کے ساتھ موسیقی گونجنے میں کامیاب رہے۔ بشیر نے لوک گیتوں کے برج کہلوانے والے فہد بن سعید، سلامہ العبداللہ، حمد الطیار اور سعد جمعہ کو کے ہم پلہ کام کیا۔ انہوں نے اپنے نغموں میں پرانے طرز تعمیر کی علامات اور ان کے ناموں کو شامل کرکےنغموں کے ذریعے ماضی کی یادیں تازہ کیں۔