.

مصر: 22 انتہاپسندوں کو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک عدالت نے جمعرات کو ایک سابق پولیس افسرسمیت 22 انتہا پسندوں کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق ان افراد کو مصربھر میں دہشت گردی کی ’’54 کارروائیوں‘‘میں ملوث پایا گیا ہے۔ان واقعات میں ایک سینئرپولیس افسر کی ہلاکت کے علاوہ سابق وزیرداخلہ محمدابراہیم کو قتل کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔‘‘

مصر میں سزائے موت کے مجرموں کوپھانسی دی جاتی ہے۔ سزائے موت پانے والوں میں ایک سابق پولیس افسر بھی شامل ہے۔تمام مجرم اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کرسکتے۔

سزا پانے والے 22 افراد سخت گیر جنگجو گروپ انصار بیت المقدس کے ارکان بتائے جاتے ہیں۔مصر کے جزیرہ نما سیناء میں فعال اس گروپ نے 2014 میں داعش سےحلف وفاداری کا عہد کیا تھا۔

مصرکی سب سے بڑی اپیل عدالت نے اسی مقدمے میں ماخوذ 118 دیگرافراد کی قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔ان میں کئی سال کی مدت سے لے کرعمرقید تک کی سزائیں شامل ہیں۔

مصر کو گذشتہ برسوں سے شمالی سینا میں مسلح بغاوت کا سامناہے۔سخت گیرجنگجو گروپوں نے 2013 میں اسلام پسند صدر ڈاکٹر محمد مرسی (مرحوم) کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے ردعمل میں تشدد آمیز کارروائیاں اور سکیورٹی فورسز پرحملے شروع کردیے تھے۔

فروری 2018 میں فوج اور پولیس نے شمالی سینا میں جنگجو گروپوں کے خلاف بڑا آپریشن شروع کیا۔اس کے تحت ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی مشتبہ افراد اور داعش سے وابستہ جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے اب تک قریباً 1073 مشتبہ جنگجو اور درجنوں سیکورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں مصر نے داعش کے جنگجوؤں کا قلع قمع کرنے کے لیے غزہ کی سرحد کے ساتھ واقع شہر رفح کے ارد گرد اپنی فوج کی تعداد بڑھادی تھی اور اس نے اس ضمن میں اسرائیل کے ساتھ اتفاق کیا تھا۔

جزیرہ نما سیناء میں انصار بیت المقدس کے جنگجوؤں کی قیادت خصوصی فورسز کے سابق افسرہشام العشماوی کرتے رہے تھے۔انھیں کبھی مصر کا ’’انتہائی مطلوب شخص‘‘ کہا جاتا تھا،انھوں نے القاعدہ سے ناتا توڑ کر داعش سے وفاداری کا اعلان کیا تھا۔

2018ء میں العشماوی کو لیبیا کے مشرقی شہردرنہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور پھرانھیں قاہرہ کے حوالے کردیاگیا تھا۔ان کے خلاف آج کے سزایافتہ 22 افراد کے ساتھ مختلف الزامات میں مقدمہ چلایا جارہا تھا لیکن انھیں پہلے ہی مجرم قراردے کر سزائے موت سنائی جاچکی تھی اور مارچ 2020 میں العشماوی کو پھانسی دے دی گئی تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سب سے زیادہ آبادی والے عرب ملک مصر میں چین اور ایران کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ پھانسیاں دی جاتی ہیں۔ایمنسٹی نے کہا کہ 2020 میں مصری حکام نے 107 افراد کوتختہ دارپرلٹکایا تھا۔