.

حرمین شریفین کی تاریخ کو دستاویزی طور پر محفوظ کرنے کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں "حج تحقیقی مرکز" کے بانی ڈاکٹر سامی عنقاوی کے مطابق حرمین شریفین کی تاریخ کو دستاویزی طور پر محفوظ کرنے کا منصوبہ شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے جلد ہی ویب سائٹ متعارف کرا دی جائے گی۔ یہ ویب سائٹ حرمین شریفین کی تاریخ کے ڈیجیٹل مرجع کی حیثیت کا حامل ہو گا۔ عنقاوی نے یہ بات جمعرات کے روز "اسلامی فن" کے عنوان سے منعقد ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔

عنقاوی کے مطابق اگر اداروں اور شخصیات کے بیچ کوششیں متحدہ اور مشترکہ رہیں تو مذکورہ ڈیجیٹل منصوبے کو دو سے پانچ برس کا عرصہ درکار ہو گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اس میں 50 برس کے قریب لگ سکتے ہیں۔

ادھر سعودی مؤرخ اور ماہر تعمیرات ڈاکٹر عبداللہ القاضی نے بتایا ہے کہ رواں سال سعودی عرب میں مساجد سے متعلق ایک مطالعاتی تحقیق مکمل کی گئی۔ تحقیق کے مطابق مملکت کی 115 مسجدوں پر آنے والی مجموعی لاگت 100 ارب ریال تک ہے۔ ان کی ماہانہ دیکھ بھال کا خرچ 5 ارب ریال ہے جب کہ ان مساجد کا بجلی کا خرچ اوسطا 1 ارب ریال ہے۔

ریاض میں شاہ عبدالعزیز عالمی مرکز برائے ثقافت "اثراء" میں ہونے والی اس کانفرنس میں مساجد کی تعمیر سے متعلق عبداللطیف الفوزان ایوارڈ کی شراکت داری شامل ہے۔ کانفرنس کے مقررین نے زور دیا کہ مساجد کے تعمیری ورثے کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔

مقررین کے مطابق محلوں کے اندر مساجد پر توجہ اور التفات ہونا چاہیے۔

دوسری جانب لندن میں برکات ویلفیئر فنڈ اور وکٹوریا ایلبرٹ میوزیم کی آنریری فیلو ڈاکٹر امینہ عبد البر کا کہنا ہے کہ مساجد میں مووجد آثاریاتی نوادارات کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سال 2017ء میں آثار قدیمہ سے متعلق 52 اشیاء فروخت کی گئیں۔ مساجد اور فنِ اسلامی کے ورثے کا تحفظ بھرپور کوششوں کا متقاضی ہے تا کہ یہ لازوال ورثے اور ذخیرے کے طور پر باقی رہے۔