سعودی پولیس نے خواتین ملازماؤں کے زدوکوب کرنے کی وڈیو کی حقیقت بتا دی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

سعودی عرب میں سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر سامنے آنے والی وڈیو نے ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ وڈیو میں ایک سعودی شہری اور ایک غیر ملکی کارکن کو ایک ریکروٹنگ ایجنسی کے دفتر کے اندر خواتین ملازماؤں کو زدوکوب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ حفر الباطن ضلع میں پیش آنے والے اس واقعے پر سعودی شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔

اس حوالے سے مشرقی صوبے الشرقیہ کی پولیس نے واضح کیا ہے کہ یہ وڈیو کلپ کئی برس پرانا ہے۔ مزید یہ کہ وڈیو میں نظر آنے والے تمام افراد مملکت سے کوچ کر چکے ہیں اور ابھی تک واپس نہیں لوٹے۔

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ہی اس دفتر کے مالک کو شناخت کر کے اسے حراست میں لے لیا گیا تھا۔ یہ ایک سعودی شہری تھا اور اس کے خلاف ضابطے کی قانونی کارروائی کی گئی۔

سعودی استغاثہ کے ایک ذمے دار نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے شخص کے خلاف فیصلہ سنا دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں