متحدہ عرب امارات میں اومیکرون کرونا سے متاثرہ پہلے کیس کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات میں صحت اور کمیونٹی پروٹیکشن کی وزارت نے افریقی ملک سے آنے والی ایک افریقی خاتون کے کرونا کی تبدیل شدہ نئی قسم "اومیکرون" سے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔ یو اے ای میں کرونا کی اس نئی شکل کا یہ پہلا کیس ہے۔ یہ خاتون افریقی ممالک سےآئی اور ایک عرب ملک سے بھی اس کا گذر ہوا ہے۔ اس نے کرونا ویکیسن کی دو خوراکیں لے رکھی ہیں۔

ایمریٹس نیوز کے مطابق وزارت صحت نے بدھ کے روز بتایا کہ متاثرہ خاتون کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور اس کی صحت کی حالت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ جن لوگوں کا اس سے رابطہ تھا انہیں الگ تھلگ کردیا گیا ہے تمام ضروری صحت کے اقدامات کیے گئے تھے۔

ہیلتھ سیکٹر الرٹ

حکام نے متحدہ عرب امارات میں تحقیقات اور ضروری جانچ کے طریقہ کار کے ذریعے تمام فعال اقدامات کرتے ہوئے مختلف پیش رفتوں سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے کی تیاری کی بھی تصدیق کی۔

حکام نے ویکسین لینے اور بوسٹر ڈوز لینے کی اہمیت پر بھی زور دیا کیونکہ بوسٹر خوراک ویکسین کی قوت مدافعت بڑھانے اور شدید علامات اور اموات کو روکنےبالخصوص کرونا کی تبدیل ہونے والی شکلوں کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کن ممالک کے شہریوں کا داخلہ ممنوع

قابل ذکر ہے کہ جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی اور متحدہ عرب امارات کی ایرجنسی کرائسز کے انتظام کے لیے قومی اتھارٹی نے 26 نومبر کو اعلان کیا تھا کہ وہ جنوبی افریقہ، نمیبیا، لیسوتھو، ایسواتینا، زمبابوے، بوٹسوانا اور موزمبیق سے آنے والے مسافروں کے لیے داخلہ معطل کر دیں گے۔ پیر 29 نومبر تک قومی اور غیر ملکی کیریئرز کی تمام پروازیں نیز ان سے آنے والے ٹرانزٹ مسافروں کو بھی داخلے سے روکا جائے گا۔

اس میں پروازوں کے ساتھ امارات آنے سے پہلے 14 دن کی مدت کے دوران مسافروں کا داخلہ معطل کرنا بھی شامل ہے کیونکہ اس سے امارات سے مسافروں کی ان ممالک میں منتقلی ممکن ہو جائے گی۔

جنوبی افریقہ، نمیبیا، لیسوتھو، ایسواتینا، زمبابوے، بوٹسوانا اور موزمبیق سے خارج شدہ گروپوں کو احتیاطی تدابیر کے اطلاق کے ساتھ امارات منتقل کرنے کی بھی اجازت دے گا۔ جس میں سرکاری وفود اور متحدہ عرب امارات کے شہری، امارات کے درمیان منظور شدہ سفارتی مشن شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں