پردیس میں وطن کے دکھڑے سنانے والی یمن کی بیٹیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

ہر کامیابی کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے۔ یمنی عورت کے پاس دو کہانیاں ہیں، ایک جو ان کی کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے راستے میں آنے والی مصائب کو بیان کرتی ہے اور دوسری جنگجوں، پسماندگی اور معاشرتی سطح پر نظر انداز کرنے کی تثلیث کے چیلنج سے بھرپور حالات کی تفصیل بتاتی ہے۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کے ذریعے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ نے ان ویڈیوز کی نشاندہی کی جنہیں ہزاروں مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ ان میں یمنی ہیروئنز جنگ کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں۔ تنازع کے فریقین کو امن اور ہم آہنگی کے پیغامات دیتی ہیں، نفرت ترک کرنے کے پر زور دیتی ہیں۔

کارکنوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر وائرل کی جانے والی ویڈیوز میں رواداری اور مفاہمت کے جذبات شامل ہیں جو لڑائیوں کے جہنم کو عبور کر کے جبری بھرتی اور لاوارث زخمیوں کے دلوں تک پہنچنے کے لیے مورچوں کی رکاوٹیں توڑ کر ان میں داخل ہوتی ہیں۔ یہ وہ خواتین ہیں جو بے گھر لوگوں کے لیے نئی امید پیدا کرتی ہیں۔ وہ تارکین وطن جو سادہ معاش، محفوظ چھت اور انسانی وقار کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کے لیے آواز آٹھاتی ہیں۔

سوشل میڈیا کی اسٹار

ان ویڈیوز پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمر پر ناظرین کی طرف سے غیرمعمولی اور مثبت رد عمل سامنے آیا ہے۔ اس رد عمل میں یمنی باشندوں کی زندگی کے سنگینی پر مبنی حالات میں ان کی کارکردگی اور ہمت کی تعریف کی گئی۔ ان خواتین کی ویڈیو میں ان کی کارکردگی، بیان، شاعری اور نغموں میں قوم کا دکھ ظاہر ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر قومی ستارے، محبت اور امن کے گیت گاتے ہیں۔ بہادرانہ موقف اپناتے اور ملک و قوم کی باوقار مہذب تصویر پیش کرتے ہیں جو یمنی خواتین کی طاقت، دنیا اور انسانیت کے ضمیر میں ان کے نرم انسانی اثر کو ظاہر کرتی ہے۔

مہذب نمائندگی اور معزز اقدار

نوجوان یمنی کارکن امت اللہ الحجی فیس بک پرنشرہونے والی ایک لائیو ویڈیو کے ذریعے 30 نومبر کواجلاء پر مبارکباد کا پیغام دیا۔ اس کی ویڈیوز میں مہذب اقدار اپنانےاور انسانی امن کے قیام پر زور دینے والے پیغامات شامل ہیں۔ امۃ اللہ مزید کہتی ہیں کہ ہمارے پاس سب سے قیمتی چیز ہمارا وطن ہے۔ وطن سے محبت اور فخر کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ ہمیں اسی، نوے اور دو ہزار کے دور میں پیدا ہونے والے نوجوانوں پر فخر ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو جنگ، غربت اور خونریزی کی تثلیث کے درمیان پلی بڑھی۔ وہ ان کے تخلیقی نظریات، روشن خیالی اور وطن عزیز کی روشن اقدار پر فخر کرتی ہیں۔

امت اللہ الحجی
امت اللہ الحجی

سیاستدانوں کے اعمال ہماری نمائندگی نہیں کرتے

امت اللہ کہتی ہیں کہ بہ طور عوام ہمیں سیاست دانوں کے رویے سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ نہ ہی ان کے رویے اور اعمال کے پیچھے یمنی ہونے کے ناطے ہم پر بدگمانیاں ہیں۔ ان سے کسی ریاست، حکومت یا سیاست کی نمائندگی کی توقع نہیں کی جاتی ہے۔ یمن کے شہری کے لیے وطن ہی عزیز ہے۔

وہ نوجوانوں سے بھی خطاب کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ جنگ سے اپنی اقدار کو آلودہ نہ ہونے دیں۔ سیاسی تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کریں۔ ہم سب کو روشن پہلو پیش کرنا ہے۔ محبت، نیکی، انسانیت اور بین الاقوامی ضابطوں اور قوانین کے احترام کے ساتھ اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ہے۔ ہم ایک آزاد قوم ہیں اور پوری تاریخ میں ہم کسی کےغلام نہیں رہے ہیں۔

"موت کا سفر"

ملائیشیا میں مقیم نوجوان یمنی شاعرہ بھی یمن کی ان بہار خواتین میں شمار کی جاتی ہیں جو سوشل میڈیا سمیت دیگر شعبوں میں وطن کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔

بسمہ احمد نے حال ہی میں ملائیشیا میں یمنی طلبہ یونین کے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی اورمیڈیا کی زبردست توجہ حاصل کی۔ اس کا تعلق یمن کے اب شہر سے ہے جو یمنی تارکین وطن کے مصائب کا مرکز رہا ہے۔ بڑی تعداد میں اب سے نقل مکانی، جنگ اور محاصرے کی وجہ سے بسمہ بھی فرار پر مجبور ہوئی۔اس نے ان مصائب کو اجاگر کرنے کے لیے ادبی سانچوں،اداس موسیقی کے اثرات کے ساتھ آگاہی کے لیے "موت کا سفر" کے عنوان سے تخلیقی ویڈیوز تیار کیں۔

محفوظ وطن کی تلاش

ویڈیو میں، بسمہ نے پھول جیسے یمنی بچوں اور نوجوان یمنیوں کی غیر قانونی امیگریشن کے معاملے پر بات کی جو ہجرت یا نام نہاد اسمگلنگ کے ذریعے اپنی جانوں اور اپنے بچوں اور عورتوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ یہ نوجوان یورپی ممالک کے کٹھن سفر پر چل پڑتے ہیں۔ وہ بعض اوقات صرف سمندر کی لہروں کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان کی زندگی کے چراغ گل ہوجاتےہیں۔ بسمہ ان تمام یمنی نوجوانوں کو مخاطب کرتی ہیں جو جنگوں اور تنازعات سے بھاگتے ہیں اور محفوظ وطن تک پہنچنے کے لیے خطرات مول لینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ کیا آپ کی زندگی اور آپ کے خاندان کی زندگیاں اتنی سستی ہیں کہ آپ اسے ایک سیاہ نامعلوم اور ناگزیر عذاب کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ایسے لوگ ہیں جو منزل مقصو قرار دیے جانے والے ممالک تک پہنچنے سے پہلے ہی آدھے راستے میں مر جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ گولیوں سے مر جاتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ جیتنے والے انسانی سمگلر کون ہیں جو صرف پیسے اکٹھا کرنے کی فکر کرتے ہیں؟"

یمنی جن کا وطن یا شناخت نہیں ہے

العنود عارف کی عمر 30 سال ہے اور وہ ایک شاعرہ ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب "میں نے خرگوش سے محبت کی" لکھی ہے۔ العنود کو یمنیوں کے ضمیر کو متاثر کرنے والے بہت سے مسائل کے ساتھ بات چیت کے لیے جانی جاتی ہیں۔ العنود نے آزادی اظہار رائے پر زور دیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ یمن کا کسی کے ساتھ الحاق نہیں ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہم ایک ایسے اداس ملک میں پروان چڑھ رہے ہیں جو تنازعات کی وجہ سے تھک گیا ہے۔ کب تک ہم اس وطن پر راکھ بکھیرتے رہیں گے۔ ہم کب تک تمہاری لالچ، پالیسیوں، نعروں اور اس بوسیدہ سوچ کا سامنا کریں گے جس نے وطن کی بقا کو ختم کردیا ہے۔

العنود عارف
العنود عارف

انہوں نے مزید کہا کہ یمن ایک ایسا ملک میں بن گیا جس میں بچوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ وطن کے بغیر شہری۔ شناخت کے بغیر یمنی، یمن کے بغیر یمنی، وطن کے اندر سے تارکین وطن اور دوسرے ملکوں میں بے گھر ہو کر رہ گئے ہیں۔

تنازع کے فریقین کو پیغام

30 سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے ذریعے، نوجوان کمیونٹی کی کارکن مارسیلیا العسالی نے یمن میں تنازع کے فریقین کو ایک پیغام بھیجا جس میں ان سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے یمن کے ساتھ ایک تعمیری مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا مطالبہ کیا۔ پائیدار امن کے قیام کے لیے خواتین اور نوجوانوں کی شرکت پر زور دیا۔

یمنیوں کا درد بھرا گیت

امینہ السمیعی سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ کے اجراء کی تقریب میں نمودار ہوئیں جس میں تمام یمنیوں کے درد کی کہانی "مائی لو فارہر" گانے میں بیان کی گئی۔اسے ایک قومی کام کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔

اس کے ذریعے وہ ایک پوری قوم کے دُکھ کو بیان کرتی ہے جب سفارت کاری یمن کی آواز کو دنیا تک پہنچانے سے قاصر تھی۔اس میں ایک سویڈش آرکسٹرا کام کرتا ہے جس نے موسیقی کی تالوں کے ساتھ اس کی دھنوں کی گونج میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ گویا کہ وہ ایک دوسرے کا درد بانٹ رہے ہیں۔

امینہ کہتی ہیں ہم یمن میں بقائے باہمی کے الفاظ اور امن کے دھنوں کے ساتھ گاتے رہیں گے اور ہم اس وقت تک گاتے رہیں گے جب تک کہ غصہ کرنے والے چلے جائیں اور خوشی کے ساتھ رہنے والے یمن واپس نہ آجائیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں