سعودی عرب کے خلاف بیان دینے والے لبنانی وزیر مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کے وزیر اطلاعات جارج قرداحی نے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی جانب سے تنقید کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

جارج قرداحی نے اپنے استعفیٰ کا اعلان بیروت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ استعفیٰ کے ذریعے فرانسیسی صدر عمانویل ماکرون کے دورہ سعودی عرب کے دوران لبنان-سعودی سفارتی جنگ کو ختم کرنے کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے استعفیٰ کا فیصلہ لبنانی وزیر اعظم نجیب میکاتی اور فرانسیسی صدرماکرون کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کیا گیا۔

قرداحی نے یمن میں جاری جنگ میں سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد لبنان کے نمائندے کو ملک سے بے دخل کرتے ہوئے سعودی عرب نے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا اور لبنان سے تمام امپورٹس پر پابندی لگا دی تھی۔

اس کے علاوہ خلیجی ممالک جن میں متحدہ عرب امارات اور کویت شامل ہیں، نے بھی لبنان کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ مملکت کی جانب سےلبنان کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے کے فیصلے کے پیچھے محرکات میں ایران نواز حزب اللہ کا بڑھتا اثر و رسوخ بھی شامل تھا۔ سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کی حمایت سے کھڑی اس حکومت سے تعلقات نتیجہ خیز نہیں ہیں۔

حزب اللہ نے جارج قرداحی کی جانب سے استعفیٰ نہ دینے پر تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ لبنان کو غیر ملکی ہدایات پر عمل نہیں کرنا چاہیے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں