یمن اور حوثی

حوثی کمانڈر کی ایران اور حزب اللہ سے باضابطہ جنگ میں شمولیت کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے سرکردہ رہ نما یوسف الفتیشی نے پاسداران انقلاب حزب اللہ اور عراق اور شام میں ملیشیاؤں سے یمن میں ان کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

الفتیشی نے اپنے ٹوئٹر پیج پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ ایران، لبنان، عراق، شام اور فلسطین میں مزاحمت کا محور یمن میں حوثیوں کے ساتھ بغیر کسی شرمندگی کے لڑائی میں شامل ہوں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ان کے لیے اور مزاحمت کے لیے ایک فرض اور بہت بڑا اعزاز ہے۔

الفتیشی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کے ساتھ (یمن میں) حزب اللہ کی طرف سے لڑائی اور جس کو انہوں نے فلسطین، عراق، شام اور ایران میں "مزاحمت" کہا ہے "کوئی الزام یا آفت نہیں ہے"، بشرطیکہ وہ ان (حوثیوں) کے ساتھ مل کر لڑیں۔

یمنی مبصرین کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے ایک سرکردہ رہ نما کی طرف سے یہ اپیل ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب کہ دوسری طرف حزب اللہ اور ایران پر کئی سال سے حوثی ملیشیا کی معاونت کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ سنہ 2014ء کو حوثی ملیشیا کی جانب سے یمن میں آئینی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کے بعد ایران اور حزب اللہ پر حوثیوں کو عسکری معاونت اور ہتھیار فراہم کرنے کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔

دوسرے مبصرین نے اس اپیل کو مارب شہر کو گرانے میں حوثیوں کی ناکامی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ حوثی ملیشیا کو مآرب کے محاذ پردس ماہ سے جاری مسلسل لڑائی میں غیرمعمولی جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

خیال رہے کہ یوسف عبداللہ حسین الفتیشی جس کا عرفی نام "ابو مالک" ہے جو عرب اتحاد کو مطلوب 40 حوثی دہشت گردوں کی فہرست میں 23 ویں نمبر پر ہے۔ اس کے بارے میں معلومات فرام کرنے پر دس ملین ڈالر کا انعام مختص کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں