جوہری ایران

نطنز جوہری مرکز کے قریب دھماکے کی حقیقت کے بارے میں متضاد ایرانی دعوے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ہفتے کے روز جوہری ری ایکٹر میں جو کچھ ہوا اس کی سچائی کے بارے میں ایرانی کہانیوں اور دعووں میں تضاد پایا جاتا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن نےایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایرانی فضائی دفاع نے ایک تربیتی مشق کے ایک حصے کے طور پر نطنز شہر پر میزائل داغا جو ملک کے مرکز میں واقع ہے اور اس میں جوہری تنصیبات بھی شامل ہیں۔ مشق کا اعلان اس وقت کیا گیا جب مقامی باشندوں نے کہا کہ انہوں نے ایک زبردست دھماکے کی آواز سنی۔

ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق فضائی دفاعی یونٹوں نے نطنز کے اوپر کام کرنے والی تیز رفتار ردعمل کی قوت کو جانچنے کے لیے میزائل لانچ کیا تھا۔

دوسری طرف ایرانی فوج کی ترجمان شاہین تقی خانی نے ٹیلی ویژن کو بتایا کہ اس طرح کی مشقیں مکمل طور پر محفوظ ماحول میں کی جاتی ہیں اور تشویش کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

قبل ازیں ایرانی ویب سائٹس نے ایرانی اسٹوڈنٹس ایجنسی کے حوالے سے بتایا تھا کہ نطنز شہر کے آسمان میں ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی۔ اس نے مزید کہا کہ اس کی کوئی سرکاری وضاحت نہیں کی گئی ہے۔

نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے قریبی بدرود میں اپنے نامہ نگار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد آسمان میں ایک زوردار چمک اٹھی۔

نطنز کی تنصیب کو کئی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ سب سے اہم جوہری تنصیبات میں سے ایک ہے جس میں 60 فیصد یورینیم افزودہ کیا جاتا ہے۔

اس جوہری تنصیب پر آخری حملہ گذشتہ اپریل میں کیا گیا تھا اور ایران نے اس حملے کے پیچھے اسرائیل کے ملوث ہونے کا الزام عاید کیا۔

موساد نے جوہری سائنسدانوں کو بھرتی کیا

دی جیوش کرونیکل کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس سروس موساد نے ایران میں محفوظ ترین جوہری تنصیبات میں سے ایک کو اڑانے کے لیے متعدد ایرانی جوہری سائنسدانوں کو بھرتی کیا تھا۔ نطنز جوہری پلانٹ پر حملے میں بھی انہی سائنسدانوں کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ایجنٹوں نے 10 ایرانی سائنسدانوں سے رابطہ کیا اور انہیں نطنز میں زیر زمین سینٹری فیوج ہال (A1000) کی تباہی میں حصہ لینے کے لیے بھرتی کیا گیا جہاں ایرانی سائنسدانوں کا خیال تھا کہ وہ ایرانی حکومت مخالف تنظیموں کے لیے کام کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد ایرانی سائنسدانوں کے جمع کردہ ڈرون کے ذریعے منتقل کیا گیا تھا اور کچھ دھماکہ خیز مواد کیٹرنگ ٹرک کے اندر لنچ بکس میں چھپا کر اسمگل کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آنے والی تباہی نے ایران کی اعلیٰ ترین سطح پر افراتفری پھیلا دی۔ دھماکے نے جوہری پلانٹ کے 90 فیصد سینٹری فیوجز کو تباہ کر دیا۔ جوہری بم کی طرف پیش رفت میں تاخیر ہوئی اور مرکزی کمپلیکس کو نو ماہ تک بند کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں