دو اسرائیلی پولیس افسروں سے مبیّنہ فلسطینی حملہ آور پرگولی چلانے پر پوچھ تاچھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل کی وزارت انصاف نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس(مشرقی یروشلیم) میں ایک اسرائیلی شخص کو چاقو کے وار سے ہلاک کرنے والے فلسطینی کی فائرنگ سے ہلاکت کے بعد دو پولیس افسروں سے پوچھ تاچھ شروع کردی ہے۔

اسرائیلی پولیس نے نگران کیمرے کی ویڈیو جاری کی ہے۔اس میں حملہ آورکو ہفتے کے روز سخت گیر آرتھوڈوکس یہودی شخص کوچاقو مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔پھر وہ اسرائیلی بارڈر پولیس کے ایک افسر کو چاقو مارنے کی کوشش کرتا ہے۔اس دوران میں اسرائیلی پولیس افسر اس کو گولی ماردیتے ہیں۔پولیس نے حملہ آور کی شناخت 25 سالہ نوجوان کے طورپر کی ہے۔اس کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے سلفیت سے تھا۔بعد میں پولیس کو اس کی لاش اسٹریچر پر لے جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

اسرائیل کی نیم فوجی سرحدی پولیس کے ایک افسر کو اس وقت گولی مارتے ہوئے دکھایا گیا ہےجب وہ پہلے ہی زمین پرگراپڑا تھا۔ایک اور پولیس افسر کو بندوق تان کر طبی عملہ کو اس تک پہنچنے سے روکتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔اس کے ردعمل میں طاقت کے ممکنہ حد سے زیادہ استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

فائرنگ کے اس واقعے کا موازنہ 2016ء میں رونما ہونے والےایسے ہی واقعے سے کیا گیا۔اس میں ایک اسرائیلی فوجی کو زمین پرپڑے ایک زخمی فلسطینی حملہ آور کو گولی مارتے ہوئے کیمرے کی آنکھ نے پکڑلیا تھا۔

اسرائیلی وزارتِ انصاف کے پولیس تحقیقاتی یونٹ نے بتایا کہ واقعے کے فوری بعد پولیس افسروں سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے اورانھیں بغیر کسی شرائط کے رہا کردیا گیا ہے۔صہیونی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے پولیس افسروں کی حمایت میں ایک بیان جاری کیا ہے۔ دیگر رہ نماؤں نے بھی ان کے اقدام کا دفاع کیا ہے۔

یہ واضح نہیں ہوا کہ فلسطینی حملہ آور کے پاس بارودی بیلٹ تھی یا نہیں۔ پولیس کی نگرانی کرنے والے عوامی سلامتی کے وزیراومر بارلیو نے اتوار کے روز اسرائیلی فوج کے ریڈیو کو بتایا کہ’’ہر طرح کے واقعات ہو سکتے ہیں۔پولیس افسروں نے درست کام کیا‘‘۔

یہ واقعہ یروشلیم کے شہرکلاں کے بالکل باہر باب دمشق کے قریب پیش آیا۔یہ ایک کشیدہ اور پرہجوم علاقہ ہے اور یہاں اکثر مظاہروں اور جھڑپوں کا منظر ہوتا ہے۔قدیم شہر مشرقی یروشلم میں ہے۔اس پراسرائیل نے مغربی کنارے اورغزہ کی پٹی کے ساتھ 1967 کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔

لیکن بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے قبضے کوتسلیم نہیں کیا جاتا جبکہ وہ پورے شہر کو اپنا دارالحکومت سمجھتا ہے۔فلسطینی مشرقی یروشلیم کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانے چاہتے ہیں۔اس میں مغربی کنارے اور غزہ پر مشتمل ہوگی۔

شہرِقدیم اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں حالیہ برسوں میں درجنوں حملے ہوئے ہیں۔ان میں قریباً تمام حملے فلسطینیوں نے انفرادی طور پرکیے تھے اور فلسطین مسلح مزاحمتی تنظیموں کاکوئی معلوم تعلق ثابت نہیں ہواہے۔

فلسطینیوں اور اسرائیل کے انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ صہیونی سکیورٹی فورسز بعض اوقات اس طرح کے چاقوحملوں کے جواب میں ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرتی ہیں جس کے نتیجے میں مشتبہ حملہ آور ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ انھیں زندہ گرفتار کیا جا سکتا تھا یا ان سے سکیورٹی فورسز کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں تھا۔

اسرائیل فلسطینیوں پرمہلک فائرنگ کے واقعات پراپنی سکیورٹی فورسز کے ارکان کو شاذو نادر ہی جوابدہ بناتا ہے۔ تفتیش اکثربغیر کسی الزام یا نرم سزا کے ختم ہوجاتی ہے اور بہت سے واقعات میں تو عینی گواہوں کو پوچھ گچھ کے لیے طلب بھی نہیں کیا جاتا ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی سکیورٹی فورسزشہریوں کو نقصان پہنچانے سے بچنے کی ہرممکن کوشش کرتی ہیں اور وہ مبیّنہ زیادتیوں کی تحقیقات کرتی ہیں۔

2016ء میں مشہورہونے والے مقدمے میں اسرائیلی فوجی ایلور عزیریہ زمین پر لیٹے ہوئے ایک زخمی فلسطینی حملہ آور کو گولی مارتے ہوئے کیمرے کی آنکھ نے پکڑلیا تھا۔ بعد ازاں عزیریہ کوبےپروائی سے قتل کا الزام ثابت ہونے کے بعد 14 ماہ جیل کی سزاسنائی گئی تھی،لیکن اس کو دو تہائی مدت کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔

اس واقعہ نے اسرائیلیوں کوتقسیم کردیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے عزیریہ کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر زور دیتے ہوئے کہا تھاکہ اس نے اس کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ بہت سے اسرائیلیوں بالخصوص قوم پرستوں نے اس کا دفاع کیاتھا۔

ایسے ہی ایک اور واقعہ میں ملوّث بارڈر پولیس کے ایک افسر پر گذشتہ سال یروشلیم کے قدیم شہر میں ایک معذور فلسطینی شخص کی جان لیوا فائرنگ سے ہلاکت پربے پروائی کاالزام عایدکیا گیا تھا۔

یہ فردِجرم عیاد حلق پر فائرنگ کے واقعے سے صرف ایک سال بعد سامنے آئی ہے۔اس کے اہل خانہ نے اس قتل کے بارے میں اسرائیل کی تحقیقات پر تنقید کی ہے اور بہت سخت الزامات عاید کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فائرنگ کے اس واقعے کا امریکامیں جارج فلائڈ کے پولیس کے ہاتھوں اندوہناک قتل سے موازنہ کیا گیاہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں