ہتھیاروں سے نشانہ بازی کی دنیا میں نام پیدا کرنے والی سعودی خاتون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی "منی الخریص" اسلحے کے ذریعے نشانہ بازی کے کھیل کی تربیت کار ہیں۔ انہوں نے اس شعبے میں مردوں کی اجارہ داری کو چیلنج کرتے ہوئے اپنا مقام بنایا۔ منی نے مطلوبہ تعلیم کے حصول کے ذریعے لائسنس حاصل کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے منی نے بتایا کہ ان کے لیے ہتھیار ،،، طاقت کا ایک ذریعہ ہے۔ انہیں بچپن سے ہی اس دنیا میں قدم رکھنے کی شدید خواہش تھی۔ وہ اپنے والد کے ہتھیاروں اور شکار کے حوالے سے شغف میں دل چسپی لیتی تھیں۔ منی کے والد انہیں شکار کرنے اور ہتھیاروں کے استعمال کرنے کی تربیت دے کر ماہر بنانے کے لیے کوشاں تھے۔

منی کہتی ہیں کہ انہوں نے 17 برس کی عمر سے یوٹیوب کی وڈیوز کے ذریعے شوٹنگ کا کھیل اور ہتھیاروں کا کھولنا سیکھنا شروع کیا۔ اس مقصد سے مملکت کے اندرون و بیرون تربیت بھی حاصل کی۔ منی نے فیصلہ کر لیا کہ ایک روز وہ اپنے اس شوق کو پیشے کے طور پر اپنائیں گی۔ انہوں نے سخت محنت کی اور آتشی ہتھیاروں کی لائسنس یافتہ تربیت کار بن گئیں۔ انہوں نے سعودی شوٹنگ فیڈریشن اور بین الاقوامی شوٹنگ فیڈریشن کے منظور شدہ کورس بھی مکمل کیے۔ مزید برآں "سیفٹی اینڈ پروٹیکشن" سے متعلق سرٹفکیٹس بھی حاصل کیے۔ اس کا مقصد اولمپک میں شرکت اور عالمی فورم پر قومی نمائندگی کے حوالے سے اپنے مرحوم والد کی خواہش پوری کرنا تھا۔

منی کے مطابق وہ سیکڑوں نوجوان مرد اور خواتین کو تربیت دے چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "اسلحہ چلانے کی تربیت عورت کے لیے وقت اور حفاظت کا ذریعہ ہے۔ مجھے ہتھیاروں سے عشق ہے اور یہ میری شخصیت کا حصہ ہے۔ ہتھیار کا استعمال سیکھنا سنت نبوی ہے جس پر ہمارے دین نے بہت زور دیا ہے۔ بالخصوص نشانہ بازی کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں