جوہری ایران

ایرانی تنصیبات پر اسرائیلی حملے ، موساد کے ہزار ارکان اور 10 ایرانی سائنس دان شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل نے گذشتہ 18 ماہ کے دوران میں ایرانی جوہری ٹھکانوں کے خلاف تین بڑی حملے کیے۔ ان کارروائیوں میں خفیہ ایجنسی موساد کے ایک ہزار کے قریب افراد نے شرکت کی۔ یہ کارروائیاں اعلی ٹکنالوجی کے ہتھیاروں کے ذریعے انتہائی باریک بینی سے انجام دی گئیں۔ ان میں ڈرون طیارے، کواڈکوپٹر اور تہران میں خطرناک ترین ٹھکانوں یعنی ایرانی جوہری پروگرام کی تنصیبات کے اندر اسرائیلی جاسوس شامل ہیں۔ یہ بات امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی خصوصی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

اخبار کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے گذشتہ ہفتے تہران کے حوالے سے نئی پالیسی پر توجہ مرکوز رکھی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ تہران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کی جارحیت کا جواب ایرانی اراضی پر خفیہ ضربوں کے ذریعے دیا جائے۔

رواں سال فروری میں Jewish Chronical Of London اخبار نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی جاسوسوں نے کس طرح ریموٹ کنٹرول آتشی ہتھیار کا استعمال کرتے ہوئے ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو ہلاک کیا۔

نطنز
نطنز

نیویارک پوسٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے تخریبی کارروائیوں کی کوششیں 2 جولائی 2020ء کو شروع ہوئی تھیں۔ اس روز ایران میں ایک محفوظ ترین جوہری تنصیب نطنز میں سینٹری فیوجز کے ایرانی مرکز میں ایک پراسرار دھماکا ہوا۔ اس دھماکے نے ایرانیوں کو حیران کر ڈالا۔ درحقیقت 2019ء میں جب اس تنصیب کی تجدید کی جا رہی تھی تو اسرائیلی ایجنٹوں نے خود کو تعمیری مواد کا تاجر ظاہر کر کے ایرانیوں کو مطلوبہ مواد فروخت کیا۔ یہ دھماکا خیز مواد سے بھرا ہوا تھا۔ اس کے ایک برس بعد اسرائیل نے اسے دھماکے سے اڑا دیا۔

نطنز میں زیر زمین ہالA1000 کے اندر 5000 کے قریب سینٹری فیوجز موجود تھے۔

منصوبے کے دوسرے مرحلے میں موساد کے جاسوسوں نے 10 ایرانی سائنس دانوں سے رابطہ کیا جو اس ہال تک پہنچ سکتے تھے۔ ان سائنس دانوں کو اپنا موقف تبدیل کرنے پر قائل کر لیا گیا۔

مذکورہ دھماکے نے محفوظ توانائی کا نظام تباہ کر دیا۔ اس کے تنیجے میں بجلی کی فراہمی کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔ علاوہ ازیں 90 فی صد سینٹری فیوجز تباہ ہو گئے اور نو ماہ کے لیے نطنز تنصیب کا کام رک گیا۔ ایرانی سائنس دان فوری طور پر روپوش ہو گئے اور اس وقت وہ تمام لوگ زندہ ہیں۔

بعد ازاں موساد کا اگلا ہدف کرج تھا۔ یہ تہران کے شمال مغرب میں 30 میل کی دوری پر واقع ہے۔ یہاں سینٹری فیوجز ٹکنالوجی کی ایرانی کمپنی (TESA) موجود ہے۔ گذشتہ کئی ماہ کے دوران میں اسرائیلی جاسوسوں اور ان کے ایرانی ایجنٹوں کی ٹیموں نے ایک مسلح کواڈکوپٹر اسمگل کیا۔ یہ وزن میں ایک موٹر سائیکل کے برابر ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کواڈکوپٹر کو پرزہ پرزہ کر کے اسمگل کیا گیا یہاں تک کہ اس کے استعمال کا وقت آ گیا۔

رواں سال 23 جون کو کواڈکوپٹر کے پرزوں کی اسمبلنگ کی گئی اور اسےTESA کمپنی کے مقام سے 10 میل کی دوری پر منتقل کر دیا گیا۔ موساد نے اس کواڈکوپٹر کے ذریعے کمپنی میں زور دار دھماکا کیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسرائیل نے یہ تمام کارروائیاں اس دوران میں کیں جب ویانا میں ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات جاری تھے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی ان کارروائیوں میں امریکا یا کسی بھی اور ملک کی کوئی معاونت شامل نہیں رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں