ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کے لیے فوجی آپشنز تیار ہیں: پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک امریکی اہلکار نے بتایا ہےکہ محکمہ دفاع پینٹاگان نے ایران کے ساتھ ویانا میں ہونے والے جوہری معاہدے پر مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایران سے نمٹنے کے لیے منصوبے تیار کیے ہیں اور ان منصوبوں میں آخری آپشن کے طور پر ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے شامل ہیں۔

اس تناظر میں توقع ہے کہ وہ واشنگٹن میں موجود اسرائیلی حکام یعنی وزیر دفاع بینی گینٹز اور موساد کے سربراہ سے حملوں کے معاملے پر بات چیت کریں گے۔

پینٹاگان نے وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کو گذشتہ اکتوبر سے ایران کے خلاف فوجی اختیارات کے مواد سے آگاہ کیا تھا۔

انہوں نے اس وقت پینٹاگان کو بتایا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے فوجی آپشنز تیار ہیں۔

درایں اثنا امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو کہا ہے کہ اس کی دلچسپی ایران کو جوہری معاہدے کے مذاکرات میں واپس کرنے پر مرکوز ہے۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکا کو اس بات میں زیادہ دلچسپی ہے کہ ایران کب مذاکرات کی طرف واپس آئے گا۔"

امریکی قومی سلامتی کے مشیر
امریکی قومی سلامتی کے مشیر

پرائس نے زور دے کر کہا کہ ایران اب بھی امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کر رہا ہے اور اس کے ساتھ جوہری مذاکرات کے لیے یہ وقت کم ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ جین یوس لی ڈریان نے منگل کو کہا تھا کہ اُنہیں خدشہ ہے کہ ایران ان مذاکرات کے دوران وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

فرانسیسی وزیر نے فرانسیسی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے بات کرتے ہوئے کہ آج بحث کے جو امور دوبارہ سامنے آئے ہیں وہ حوصلہ افزا نہیں ہیں کیونکہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ایرانی اسے جاری رکھنا چاہتے ہیں اور یہ بات چیت جتنی لمبی ہوگی اتنا ہی وہ اپنی بات سے پیچھے ہٹیں گے۔ وعدوں سے مکریں گے اور وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اپنی صلاحیت کے قریب پہنچ جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں