اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے ساتھ "آہنی دیوار" کی تعمیر مکمل کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے گرد 'اسمارٹ بیریئر' کی تعمیر کا کام مکمل کر لیا ہے۔ فلسطینی گروپوں کے زیر انتظام سرنگوں کے خطرے سے نمٹنے اور اسرائیلی اراضی میں دراندازی روکنے کے سلسلے میں اسرائیلی وزارت دفاع کا یہ سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ غزہ کی پٹی کی سرحد پر یہ آہنی دیوار ساڑھے چار برس میں مکمل ہوئی ہے۔

مذکورہ دیوار 65 کلو میٹر طویل ہے اور یہ اسرائیلی سرحد کے متوازی تین جغرافیائی سمتوں سے غزہ کی پٹی کا احاطہ کرتی ہے۔ دیوار کی تعمیر پر 1.1 ارب ڈالر لاگت آئی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی کے مطابق یہ اسمارٹ بیرئر ایک ایسی دیوار ہے جو زمین کے اوپر اور زیر زمین بھی ہے۔ یہ دیوار جدید ترین حفاظتی آلات اور ریڈار و سینسر سے لیس ہے۔ علاوہ ازیں بحری رکاوٹ بھی ہے۔ اس کا مقصد غزہ کی پٹی کو جنوبی اسرائیل سے علاحدہ رکھنا ہے۔

اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق زیر زمین دیوار کا پہلا حصہ زیر زمین ہے۔ اس کی گہرائی 30 میٹر ہے۔ اس حصے میں 12 لاکھ مکعب میٹر کنکریٹ اور 1.4 لاکھ ٹن فولاد بھرا گیا ہے۔ اس میں نصب سینسر 200 میٹر سے زیادہ گہرائی تک کسی بھی کھدائی کا انکشاف کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں لگا ریڈار دیوار سے 40 میٹر تک کے فاصلے پر کسی بھی نقل وحرکت یا آواز کا پتہ لگا سکتا ہے۔

دیوار کا دوسرا حصہ زمین سے اوپر ہے جو جستی فولاد سے بنا ہوا ہے۔ اس کی اونچائی چھ میٹر کے قریب ہے۔ دیوار کے اوپر حصے پر اسٹیل کی وائر نصب ہے جو شارٹ سرکٹ پر مشتمل ہے۔ اس کو وار رومز ، ریڈاروں ، نگرانی کے کیمروں اور دن اور رات میں رؤیت کے ساز و سامان سے لیس کیا گیا ہے۔

دیوار کا تیسرا حصہ سمندر میں ہے۔ اس میں ایسے وسائل شامل ہیں جن سے سمندر کے اندر کسی بھی سرحدی خلاف ورزی کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ہتھیاروں کا خود کار ریموٹ کنٹرول نظام اور ریڈار سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق اسمارٹ بیرئر میں استعمال ہونے والے کنکریٹ کی مقدار اسرائیل سے بلغاریا تک سڑک بنانے کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح اس میں لگایا جانے والا فولاد اسرائیل سے آسٹریلیا تک فولادی ٹکڑی تیار کرنے کے لیے مطلوب مقدار کے برابر ہے۔

درحقیقت اسرائیل نے یہ اسمارٹ بیرئر فلسطینی گروپوں کے ساتھ 15 عسکری تصادم کے بعد اور غزہ پٹی میں فلسطینی گروپوں کی جانب سے حملہ آور سرنگوں کے جواب میں تعمیر کیا ہے۔ یہ سرنگیں اسرائیلی اراضی میں 200 میٹر کی گہرائی تک پہنچی ہوئی تھیں۔ ان سرنگوں کو حملوں کے علاوہ اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کرنے کے واسطے بھی استعمال کیا گیا۔

حماس تنظیم کی ویب سائٹ کے مطابق 2001ء سے 2014ء کے درمیانی عرصے میں ان سرنگوں کو 13 بار حملوں کے واسطے استعمال کیا گیا۔

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز کا کہنا ہے کہ اسمارٹ بیرئر حماس تنظیم کو اس کی حملہ آور سرنگوں سے محروم کرے دے گا۔ گینٹز کے مطابق ان کی توجہ حماس کی جانب سے داغے جانے والے راکٹوں سے نمٹنے پر ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق اسرائیل اس اسمارٹ بیرئر کو اسمارٹ بارڈ کے ساتھ ضم کر دے گا۔ اسمارٹ بارڈر متحرک روبوٹس پر مشتمل ہے۔ یہ روبوٹس نگرانی کے نظام سے موصول ہونے والی ہدایات پر براہ راست حرکت میں آتے ہیں۔ یہ مقررہ اہداف پر حملوں کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

دوسری جانب حماس تنظیم کے ترجمان عبداللطيف القانوع کا کہنا ہے کہ اس دیوار کی تعمیر غیر قانونی ہے۔ یہ زمین کے اوپر اس کے نیچے سے غزہ کی پٹی کا محاصرہ شدید کر دے گی۔ یہ فلسطینی گروپوں کے لیے ایک اشتعال انگیز اقدام ہے اور اس کے نتائج کی ذمے داری اسرائیل پر عائد ہو گی۔ ترجمان کے مطابق اس دیوار سے اسرائیل کو امن نصیب نہیں ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں