سعودی عرب: ننھے رقاص کے لوک رقص نے شائقین کے دل موہ لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ دنوں سعودی عرب کے ایک چھوٹے بچے کی روایتی قومی رقص کی ویڈیو سوشل میڈٰیا پر وائرل ہوتے ہی جنگ کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ویڈیو کو عوامی سطح پر بڑٗے پیمانے پر شہریوں نے پسند کیا ہے۔ مقامی سطح پر اس روایتی رقص کو ’الرفیحی‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

تبوک کے علاقے میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں ایک شادی کی تقریب کے دوران ننھے "ماجد" کو ایک ویڈیو کلپ میں لوک رقص پیش کرتے دیکھا گیا۔ تقریب میں اس کے رشتہ داروں کی ایک بڑی تعداد اس کے ساتھ رقص کر رہی تھی اور اسے داد دے رہی تھی۔

اس چھوٹے بچے کے روایتی ڈانس میں مہارت نے سوشل میڈٰیا پر اسے غیرمعمولی پذیرائی دی اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اسے غیرمعمولی طورپر سراہا گیا۔

اس کے والد نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ کلپ دو ہفتے قبل فلمایا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نے 8 سالہ ماجد کے ساتھ ساتھ اس کے بھائیوں کو بھی یہ لوک فن سکھایا۔

قابل ذکر ہے کہ "الرفیحی" ان لوک فنون میں سے ایک ہے جس کے لیے تبوک کا علاقہ خاص طور پر سعودی عرب کا مغربی ساحل مشہور ہے۔

اس رقص کے لیے مردوں کی دو قطاریں ایک دوسرے کے سامنے یا نیم دائرے کی شکل میں کھڑی ہوتی ہیں جہاں ایک اداکار دو قطاروں کے درمیان انفرادی پرفارمنس کے طور پر رقص کرتا ہے۔ پھر قطاروں کے درمیان اپنی جگہ پر واپس آجاتا ہے۔ اس کے بعد دوسرا شخص قطار سے نکل کر رقص کرتا ہے۔ اس طرح باری باری دوسرے لوگ بھی اس میں حصہ لیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں