صنعاء حوثیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے دوچار ہے: امریکی ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے امریکا کے خصوصی ایلچی ٹم لینڈرکنگ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ امریکا امن کے قیام کے واسطے یمنی عام کے ساتھ کھڑا ہے۔

یہ بات ہفتے کے روز امریکی ایلچی کے دفتر کی جانب سے جاری ایک مختصر بیان میں کہی گئی۔ یہ بیان انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر سامنے آیا۔ بیان میں کہا گیا کہ "امریکا صنعاء میں اپنے یمنی ساتھیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے جو حوثیوں کی جانب سے گرفتاریوں اور دیگر خطرات کا شکار ہیں"۔

لینڈرکنگ کا اشارہ امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والے سابق یمنی اہل کاروں کی جانب تھا۔ انہیں دو ماہ قبل اغوا کر لیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ خلاف ورزیاں حوثیوں کی جانب سے یمنی شہریوں کے خلاف کارستانیوں کا حصہ ہے"۔

اس سے قبل امریکی ذمے داران بتا چکے ہیں کہ ٹم لینڈرکنگ کی کوششوں سے امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والے 30 یمنی ملازمین کی رہائی عمل میں آئی۔ البتہ پانچ سے نو ملازمین ابھی تک جبری حراست میں ہیں۔ ان میں دو کا تعلق امریکی ترقیاتی ایجنسی سے ہے جو یمن میں 60 برس سے کام کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ صنعاء میں امریکی سفارت خانہ 2015ء سے بند ہے۔ یہ اقدام حوثیوں کی جانب سے سفارت خانے کی عمارت پر حملے اور قبضے کے بعد عمل میں آیا تھا۔ تاہم بعض یمنی ملازمین نے گھر سے اور اسی طرح عمارت کے پہرے داروں نے بھی کام جاری رکھا۔ بعد ازاں حوثی ملیشیا نے ان تمام کو گرفتار کر لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں