فلسطینی وزارت خارجہ کااسرائیلی آبادکاری روکنے کے لیے بین الاقوامی اقدامات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی وزارت خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی اراضی اور مقبوضہ گولان کے شامی علاقے میں یہودی بستیوں کی آباد کاری روکنے کے لیے بین الاقوامی اقدامات کیے جائیں۔

فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی (وفا) کے مطابق فلسطینی وزارت خارجہ نے یہودی آباد کاروں اور ان کی دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے الاغوار کے علاقے میں پانی کے ٹھکانے پر قبضہ کرنے اور بستیوں کی تعمیر شروع کرنے کی مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جانب سے مقبوضہ گولان کے شامی علاقے میں یہودی بستیوں کے منصوبوں کی بھی مذمت کی ہے۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے یہودی بستیوں کی آباد کاری کے جرم کی مکمل اور براہ راست ذمے داری اسرائیلی حکومت پر عائد کی ہے۔ بیان کے مطابق اس کے دو رس نتائج نہ صرف دو ریاستی حل کی بنیاد پر امن کے موقع کو بلکہ تنازع کے حل کے واسطے سیاسی سطح پر کی جانے والی بین الاقوامی کوششوں کو بھی متاثر کریں گے۔

وزارت خارجہ نے بستیوں کی آباد کاری کو مسترد کرنے سے متعلق امریکی اور بین الاقوامی موقف کو خوش آئند قرار دیا۔ البتہ وزارت خارجہ نے اس موقف ، کوششوں اور قرار دادوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ترجمانی بین الاقوامی عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آنی چاہیے۔ اس کے تحت قابض اسرائیلی ریاست کو بستیوں کی تعمیر اور فلسطینی اراضی کا سرقہ روکنے پر مجبور کر دیا جائے۔ ساتھ ہی پابند بنایا جائے کہ وہ فوری طور پر حقیقی امن عمل اور مذاکرات میں شامل ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں