جوہری ایران

جوہری بات چیت میں عدم پیش رفت کے جلو میں ایران کی خلا میں راکٹ بھیجنے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی خبر رساں ایجنسی AP کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر اور جوہری پروگرام کے ایک ماہر کے مطابق ایران ایک خلائی راکٹ کا تجربہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ویانا میں عالمی طاقتوں کے ساتھ ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کی کشتی ڈگمگاہٹ کا شکار ہے۔

مذکورہ ممکنہ تجربہ امام خمینی بیس کے ذریعے کیا جائے گا۔

جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق "جیمز مارٹن" تحقیقی مرکز کے ایک ماہر جیفری لوئس جو ایران کے جوہری پروگرام پر بھی تحقیق کر رہے ہیں ،،، ان کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت سخت گیر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی جانب سے ایک بار پھر سے فضاء پر توجہ مرکوز کرنے کا نتیجہ ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے امام خمینی ایئر بیس پر اس حوالے سے کسی بھی سرگرمی کا اعتراف نہیں کیا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے بھی اس حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی طرح خلائی تجربات کا جائزہ لینے والی امریکی فوج نے بھی اس سلسلے میں تبصرہ نہیں کیا۔

ہفتے کے روز لی جانے والی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے علاقے سمنان میں صحرا میں واقع ایئر بیس پر کچھ سرگرمی انجام دی جا رہی ہے۔ یہ اڈا تہران کے جنوب مشرق میں تقریبا 240 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔

تصاویر میں ایک سفید پل کے برابر میں سپورٹ کار نظر آ رہی ہے۔ یہ سپورٹ کار عموما لانچنگ پیڈ پر راکٹ کے ساتھ ہوتی ہے۔ اسی طرح تصاویر میں وہاں ایک ہائیڈرولک کرین بھی دکھائی دے رہی ہے۔

جیفری لوئس کے مطابق یہ ایک حد تک راکٹ چلائے جانے سے قبل کی روایتی سرگرمی ہے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے سیٹلائٹ بھیجنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد کو چیلنج کرنا ہے۔ یہ قرار داد ایران سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے کسی بھی بیلسٹک میزائل سے متعلق سرگرمی انجام نہ دے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں