خلیج تعاون کونسل کے ممالک کا امن اٹوٹ انگ ہے : سربراہ اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خلیج تعاون کونسل کا 42 واں سربراہ اجلاس منگل کی شام ریاض میں اختتام پذیر ہو گیا۔ قصرِ درعیہ میں ہونے والے اس اجلاس میں کونسل کے چھ رکن ممالک کی قیادت یا ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادی فیصل بن فرحان نے باور کرایا کہ اس اجلاس میں متعدد علاقائی اور بین الاقوامی امور زیر بحث آئے۔

ادھر خلیج تعاون کونسل کے سکریٹری جنرل نائف الحجرف نے اجلاس کے اختتامی بیان میں زور دیا کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کا امن اٹوٹ انگ ہے۔ مزید یہ کہ حوثی ملیشیا کا معاندانہ برتاؤ بین الاقوامی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

بیان میں ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے تین جزیروں پر مسلسل قبضے کو بھی یکسر مسترد کر دیا گیا۔

بیان میں باور کرایا گیا کہ عالمی برادری کی جانب سے ایران کے جوہری معاملے کے ساتھ سنجیدگی سے نمٹنا اہمیت کا حامل ہے۔ مزید یہ ایران کے ساتھ کسی بھی بین الاقوامی مذاکرات میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی شرکت واضح طور پر اہم ہے۔

سربراہ اجلاس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ خلیجی دورے کو سراہا گیا۔ علاوہ ازیں سعودی عرب کی جانب سے Expo 2030 کی میزبانی کی درخواست کے لیے بھرپور حمایت کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس کے اختتامی بیان میں یمن کے بحران کے سیاسی حل کے واسطے اقوام متحدہ کے نما ئندے کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔ علاوہ ازیں عراقی سرزمین کی خود مختاری اور وحدت کی اہمیت کو باور کرایا گیا، عراقی وزیر اعظم پر قاتلانہ حملے کی کوشش کی مذمت کی گئی، لبنان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ حزب اللہ کو دہشت گرد سرگرمیاں انجام دینے سے روکے، لیبیا کے عوام کے مفادات اور لیبیا کے استحکام کی خواہش کا اظہار کیا گیا اور دریائے نیل کے پانی میں مصر اور سوڈان کے حقوق کی حمایت کی گئی۔

بین الاقوامی سطح پر بیان میں افغانستان میں متفقہ حل کی حمایت کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں