شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے ٹھکانوں پر اسرائیلی حملے کی تفصیلات کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

رواں سال آٹھ جون (2021ء) کو اسرائیلی جنگی طیاروں نے شامی اراضی کے اندر ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے۔ اس وقت میڈیا رپورٹوں نے اس کارروائی کو "غیر معمولی" قرار دیا تھا۔

مذکورہ حملوں کی خاص بات یہ تھی کہ ان میں ماضی کے برعکس ایرانی فورسز یا ہتھیاروں کی کھیپوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا تھا بلکہ شامی حکومت کے زیر انتظام عسکری تنصیبات پر حملہ کیا گیا۔ یہ تمام تنصیبات کیمیائی ہتھیاروں کے سابق پروگرام کے ساتھ مربوط ہیں۔ اس بات کا انکشاف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے پیر کے روز کیا۔

اگرچہ اسرائیل نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تاہم اس معاملے سے باخبر موجودہ اور سابقہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس ذمے داران نے اسرائیلی حملوں کو ایک خصوصی مہم کا حصہ قرار دیا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ مہم شامی حکومت کی جانب سے مہلک اعصابی گیسوں کی دوبارہ سے تیاری کی کوشش روکنے کے واسطے جاری رکھی ہوئی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ تل ابیب میں سیاسی اور سیکورٹی حلقوں نے امریکی اخبار کی رپورٹ کی تائید کی ہے۔ عبرانی میڈیا میں بدھ کے روز سامنے آنے والے بیانات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے 8 جون کو واقعتا شامی فوج کے زیر انتظام کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔

مزید یہ کہ اُس روز بم باری میں غیر روایتی ہتھیاروں کی زیر زمین تنصیبات کو تباہ کیا گیا اور شامی حکومت کی مزاحمت کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب یہ ایران کو خبردار کرنے کے لیے ایک پیغام تھا کہ اسرائیل تہران میں بھی زیر زمین اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسرائیلی اخبار "یسرائیل ہیوم" کے عسکری تجزیہ کار یوآف لیمور کے مطابق آٹھ جون کو کیے گئے حملے کے 3 مقاصد تھے۔

پہلا : شام کو غیر روایتی ہتھیاروں کی صلاحیت رکھنے سے روکنا۔

دوسرا : بشار الاسد کو واضح کرنا کہ اسرائیل دمشق کو وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی طرف واپسی کی اجازت ہر گز نہیں دے گا۔

تیسرا : دیگر ممالک کو جن میں ایران سرفہرست ہے یہ پیغام دینا کہ اسرائیل کے لیے خطرہ بننے والے ہتھیار تیار کرنے والے ہر ملک کے خلاف اسی طریقے سے کارروائی کی جائے گی۔

اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت" کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی عسکری ذمے داران کا کہنا ہے کہ شام میں کیمیائی عسکری تنصیبات پر حملے میں اسرائیلی جنگی جہازوں نے خصوصی بموں کا استعمال کیا۔ یہ بم بڑی گہرائی تک واقع مضبوط کنکریٹ تک اثر دکھاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے رواں سال جون میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی 3 تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ بات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے 13 دسمبر کو 4 موجودہ اور سابق امریکی ذمے داران اور مغربی انٹلی جنس کے عہدے داران کے حوالے سے بتائی۔

معلومات کے مطابق اس کارروائی میں 7 شامی فوجی مارے گئے تھے۔ ان میں ایک کرنل بھی شامل ہے جس کو مقامی رپورٹوں میں "شہید ہیرو" قرار دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ہلاک شدگان میں شام کی ایک انتہائی خفیہ عسکری تجربہ گاہ میں کام کرنے والا انجینئر بھی تھا۔

شامی حکومت نے اس وقت اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی تھی۔ شامی ذمے داران 2013ء سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال یا تیاری کی بارہا تردید کر چکے ہیں۔ تاہم امریکی انٹیلی جنس ذمے داران کو طویل عرصے سے شک ہے کہ شامی حکومت اگر اپنا پروگرام دوبارہ سے نہ بھی بنا رہی ہو تو بھی اس نے پروگرام کے بنیادی عناصر کو محفوظ ضرور رکھا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں