’رائلٹی اور لیویز‘ کی آڑمیں عراقی ملیشیائیں ٹرک ڈرائیوروں سے مال بٹورنے لگیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں بہت سے ڈرائیور بیرونی سڑکوں پر مسلح دھڑوں اور ملیشیاؤں کی چوکیوں پر بھتہ خوری کے منظم نیٹ ورک کا سامنا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر کرکوک میں جہاں مختلف قسم کے سامان سے لدے ٹرکوں پر رائلٹی عائد کی جاتی ہے۔

شاید ہی کسی ایک ٹرک کو رائلٹی ٹیکس سے مستثنیٰ کیا گیا ہو مگر گاڑی جتنا زیادہ فاصلہ طے کرتی ہے، قیمت اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے، تاکہ تاجروں کا سامان دوگنی قیمتوں پر صارفین تک پہنچے۔

کرکوک ایک اسٹریٹجک ٹرانزٹ پوائنٹ

دریں اثنا کرکوک گورنری ایک اسٹریٹجک ٹرانزٹ پوائنٹ ماناجاتا ہے جو کردستان کے علاقے کو دارالحکومت بغداد اور جنوبی عراق کے شہروں سے جوڑتا ہے۔ دیالی، صلاح الدین گورنری اور دیگر علاقوں کی ٹریفک بھی اسی چیک پوسٹ سے ہو کر گذرتی ہے اور سیکڑوں ٹرک ان سڑکوں پر روزانہ چلتے ہیں۔

بہت سے ڈرائیوروں نے "مالی بھتہ خوری" کا نشانہ بننے کی شکایت کی۔ان کا کہنا ہے کہ شمال سے وسطی علاقوں اور جنوب تک اپنا راستہ مکمل کرنے کے لیے انہیں"رائلٹی" ادا کی گئی۔

ایران نواز ملیشیا

ان میں سے کچھ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ یہ رقوم ریاست کی مہر سے بند سرکاری "رسیدیں" وصول کرنے کے بعد ادا کی جاتی ہیں لیکن یہ ایران کے وفادار بعض بدعنوان اور بااثر ملیشیا کی جیبوں میں جاتی ہیں۔

اربیل سے عراق کے باقی شہروں تک سامان پہنچانے والے ڈرائیور محمد الشریفی کے مطابق ان سرکاری محصولات یا غیر سرکاری رائلٹی کی وجہ سے صارفین کے لیے قیمتیں دگنی ہو گئی ہیں۔

اس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ملیشیا کے ارکان پیسے لے کر اپنی جیبوں میں ڈالتے ہیں۔ خاص طور پر کرکوک، بغداد، صلاح الدین اور بغداد کے درمیان سڑکوں پر قائم چوکیوں پر مسلح ملیشیا کے عناصر ان سے بھتہ لیتے ہیں۔ ان چوکیوں میں ناحیہ امرلی بھی ہے جس پر مسلح ملیشیا کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

وہاں ہر ٹرک ڈرائیور کو بدر ملیشیا کو 15,000 دینار ادا کرنا ہوتے ہیں۔ یہ رقم امریکی کرنسی میں 10 امریکی ڈالر کے برابر ہے۔

غیرقانونی رقوم کا حصول

ایک ٹرک ڈرائیور علی احمد جو اربیل سے بغداد، نجف اور بصرہ تک پھل اور سبزیاں لے جانے کا کام کرتا ہے نے تصدیق کی کہ ملیشیاؤں کی وجہ سے بعض چوکیوں کو عبور کرنے کے لیے اسے اکثر بھاری رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ رقوم غیر قانونی طور پر اکٹھی کی جاتی ہیں اور حکومت انہیں نہیں لیتی، بلکہ ان ملیشیاؤں کے پاس جاتی ہے جو اپنی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ مرکزی اور شمالی گورنری کے داخلی راستوں کے علاوہ خاص طور پر اربیل، کرکوک، سلیمانیہ، دوہوک، موصل، صلاح الدین اور موصل کے ساتھ ساتھ انبار کے درمیان اور بغداد، ایران کے ساتھ کچھ سرحدی گزرگاہیں، بشمول سومر، المنذریہ ، شلامجہ، الشیب اور دیگر گذرگاہیں ملیشیاؤں کے لیے مال بٹورنے کا ذریعہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں