جوہری ایران

امریکی میڈیا کا ایران کی چار خفیہ جوہری تنصیبات کی موجودگی کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ایران نے چار ایسی تنصیبات پربھی مبینہ طورپر جوہری سرگرمیاں شروع کی ہیں جن کے بارے میں ایران نے ان کی جوہری سرگرمیوں کا اعتراف نہیں کیا۔

اخبار نے تجویز پیش کی کہ بائیڈن انتظامیہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے کہے کہ وہ ایران کی جوہری سرگرمیوں میں "ممکنہ فوجی تنصیبات" کی ان چار سائٹس کا بھی معائنہ کرے ، جن میں سے تین ایسے مقامات پر دریافت ہوئی ہیں جہاں یورینیم کے ذرات ملے ہیں۔انہیں ایران نے جوہری تنصیبات کے طور پرتسلیم نہیں کیا۔ یہ تین تنصیبات ترکوز آباد، ورامین اور ماریوان میں پائی گئی ہیں۔

چوتھا مشتبہ جوہری مرکز ایک ایسے مقام پر ہے جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ تاہم ان چاروں مقامات پر مشکوک فوجی سرگرمیاں انجام دی رہی ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ ایران مذاکرات کو ایک پروپیگنڈہ فورم کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشترکہ جامع ایکشن پلان کو ترک کرنے کے فیصلے پر معاوضے کا مطالبہ کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق ایران بائیڈن کی نرم دھمکی سے باز نہیں آیا۔ ایران میں یورینیم کی افزودگی کی سطح مقررہ حد سے زیادہ ہونا اور ایران کو روکنے میں واشنگٹن کی ناکامی تشویشناک ہے۔

اعلیٰ درجے کے امریکی ماہرین نے صدر بائیڈن کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تہران کےحوالے سے "دھمکی کی ڈپلومیسی" کو بحال کرے اور ضرورت پڑنے پر ایران کی جوہری پیشرفت کے خلاف واضح طور پر فوجی طاقت کے استعمال کے لیے تیار رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نے جوہری تنازع کے حوالے سے سرخ لکیر عبور کرلی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں