یمن اور حوثی

حوثی ملیشیا کی غنڈہ گردی، یونیورسٹی پروفیسر کے خاندان کو گھر سے نکال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

صنعاء یونیورسٹی کے ایک یمنی ماہر تعلیم نے انکشاف کیا کہ یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے اسے اور اس کے خاندان کو یونیورسٹی کی رہائش گاہ سے "وحشیانہ" طریقے سے نکال باہر کیا ہے۔

یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر احمد محمد الدغشی نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ نام نہاد "زینبیات" کے دستے (حوثیوں کی مسلح خواتین کی ملیشیا) نے صنعاء یونیورسٹی کے کیمپس میں ان کے خاندان کے اپارٹمنٹ پر حملہ کیا۔ انہیں دھمکیاں دیں اور کہا کہ اگر وہ اپارٹمنٹ خالی نہیں کرتے تو ان کا سامان اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے گا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ حوثیوں کو ان کے فیصلے سے باز رکھنے کی تمام کوششوں کے باوجود اس نے انہیں اپارٹمنٹ کو زبردستی چھوڑنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ میں نے اس اپارٹمنٹ کی فرنشننگ، تزئین اور مرمت پر بغیر کسی معاوضے کے لاکھوں خرچ کیے ہیں۔

پروفیسر الدغشی نے حوثی ملیشیا پر ان کے خلاف "نسلی امتیاز برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ معاملہ میرے بیٹوں اور بیٹیوں کو جو یونیورسٹی میں داخل ہیں یا اس سے منسلک ازال اسکول میں پڑھ رہی ہیں کو دانستہ طورپر نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

قانون ہمارے ساتھ ہے

ڈاکٹر الدغشی نے نشاندہی کی کہ حوثی اپنے وفاداروں پر ایک ہی معیار کا اطلاق نہیں کرتے۔ بلکہ کیمپس کے ساتھی جانتے ہیں کہ ان رہائش گاہوں میں کچھ حوثی وفادار رہتے ہیں جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کی کوئی تعلیمی حیثیت نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حوثی ہمارے خاندانوں کو ہمارے گھروں سے نکال کر ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے ہمارے ساتھ جوسلوک کیا اور اب بھی کررہے ہیں مگر قانون ہمارے ساتھ ہے۔

گزشتہ اکتوبر میں حوثی باغی ملیشیا نے صنعاء یونیورسٹی میں فیکلٹی ممبران کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا، متعدد اساتذہ کے اہل خانہ کو بے دخل کر دیا اور ان کی جائیدادیں ضبط کر لی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں