سعودیوں کے نام حوثیوں کے پیغام میں ایران کے ساتھ بحران کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں حوثی ملیشیا نے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ صنعاء میں ایران کے سفیر حسن ایرلو کو فوری طور پر ایران واپس جانے کی اجازت دی جائے۔ مبصرین کے نزدیک یہ درخواست حوثی ملیشیا اور تہران کے بیچ تعلقات میں تناؤ کی علامت ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے ایک ثالثی کے ذریعے اپنی درخواست سعودی حکومت تک پہنچائی ہے تاہم اس ثالثی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ ادھر ریاض نے باور کرایا ہے کہ کسی بھی ایرانی طیارے کو حوثیوں کے علاقے تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکی اخبار نے علاقائی اور مغربی ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ حوثی قیادت نے ریاض کو یقین دہائی کرائی ہے کہ وہ ایرلو کو کسی نئے ایرانی سفارت کار سے تبدیل نہیں کریں گے۔

اخبار کے مطابق حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کو بھیجے گئے پیغامات میں درخواست کی گئی کہ "ایرلو کو ایرانی طیارے کے ذریعے جو اسے لینے کے واسطے آئے گا ،،، تہران واپس لوٹنے کی اجازت دی جائے"۔ تاہم یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ نے علاقائی ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ حوثی قیادت نے ریاض حکومت کا آگاہ کیا تھا کہ ایرلو کے کرونا میں مبتلا ہونے کے بعد انہیں بہتر علاج کے لیے صنعا سے کوچ کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ذمے داران کا کہنا ہے کہ ایرلو ابھی تک یمن میں ملاقاتیں کر رہے ہیں اور ان کے کووڈ-19 سے متاثر کی علامات نہیں پائی جا رہی ہیں"۔

سعودیوں نے وساطت کار کے ذریعے حوثی قیادت کو بتا دیا ہے کہ وہ ایرلو کو پہنچانے کے لیے کسی بھی ایرانی طیارے کو یمن جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ سعودی حکام نے تجویز پیش کی ہے کہ ایرلو کو عُمانی یا عراقی طیارے کے ذریعے منتقل کیا جائے اس لیے کہ ایرانی طیارے کو اُترنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے ایرلو کو یمن سے کوچ کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے پیشگی شرط بھی رکھی ہے۔ یہ شرط ہے کہ حوثی ملیشیا کی حراست میں موجود بعض سعودیوں کو رہا کیا جائے۔

ایران نے 2019ء میں تہران میں حوثی ملیشیا کے سفیر کا استقبال کیا تھا۔ اس کے بعد تہران نے حسن ایرلو کو اگلے برس صنعاء بھیج دیا۔

امریکی اخبار نے باور کرایا ہے کہ حسن ایرلو زمینی منصوبہ بندی کے ذریعے حوثیوں کی عسکری مدد میں ملوث رہا ہے۔ البتہ یمن میں اس کے نفوذ نے اس منفی تصور کو تقویت بخشی ہے کہ حوثی ملیشیا مطلقا تہران کی پیروکار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں