شام: حملوں کا خوف، ایران نواز ملیشیائیں ٹھکانے فول پروف بنانے لگیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے ’سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ ایران کے وفادار مسلح گروہ دریائے فرات کے مغرب میں قائم اپنے ٹھکانوں کو کئی دنوں سے فول پروف بنانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ انہیں فضائی حملوں سے بچایا جاسکے۔

آبزرویٹری نے مزید کہا کہ ایران نواز گروپ اپنے ٹھکانوں کے گرد مٹی کے ڈھیر بنا رہے ہیں اور بعض مقامات پرانہیں ایک سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

آبزرویٹری نے بتایا کہ اس مہینے میں ایران نواز ملیشیا کے عراق سے ہتھیاروں کی دو کھیپیں رقہ اور المیادین کے صحراؤں میں لائی گئیں جس کے بعد ان مبینہ ٹھکانوں کو فول پروف بنانے کی کوشش کی گئی۔

7 دسمبر کو سیریئن آبزرویٹری نے اطلاع دی کہ الاذقیہ کی بندرگاہ پر اسرائیلی حملوں میں ایرانی ملیشیا کو ہتھیاروں کی ترسیل کو نشانہ بنایا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ برسوں کے دوران اسرائیل نے شام میں سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں جن میں حکومتی فوج کے ٹھکانوں، خاص طور پر ایرانی اہداف اور لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے دیگر ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سیریئن آبزرویٹری کی رپورٹ کے مطابق 24 نومبر کو اسرائیلی بمباری میں شامی حکومت کے 3 فوجیوں سمیت 5 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں