جوہری ایران

ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی صلاحیت سے محروم ہیں : اسرائیلی ذمے داران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی ذمے داران اور عسکری ماہرین کے مطابق تل ابیب اس وقت ایسے کسی بھی حملے کی قدرت رکھنے سے عاجز ہے جس کے ذریعے ایرانی جوہری پروگرام کو بڑی حد تک تباہ یا حتی کہ مؤخر کیا جا سکے۔ مذکورہ اسرائیلی شخصیات نے باور کرایا کہ اس نوعیت کا حملہ کسی طور بھی قریبی وقت میں ممکن نہیں ہو گا۔ یہ انکشاف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

اخبار نے ایک اعلی سطح کے اسرائیلی سیکورٹی ذمے دار کے حوالے سے بتایا کہ یقینا اس امر کے لیے کم از کم دو سال درکار ہوں گے تا کہ ایسے حملے کی تیاری کی جا سکے جو ایران کے جوہری منصوبے کو بھاری نقصان پہنچا سکے۔

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے اپنی افواج کو حکم دیا تھا کہ وہ فوجی راستہ اپنانے کی تیاری کریں۔ ساتھ ہی دنیا کو خبردار کیا تھا کہ "اگر نئے جوہری معاہدے نے تہران کو مطلوبہ صورت میں مقید نہ کیا تو تل ابيب اس معاملے کے ساتھ اپنے خصوصی طریقے سے نمٹے گا"۔

نیویارک ٹائمز نے اسرائیلی فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ جنرل ریلک شاویر کے حوالے سے بتایا ہے کہ "یہ بہت دشوار بلکہ ناممکن ہو گا کہ ایسی کاری ضرب لگائی جائے جس کے ذریعے ان تمام (ایرانی) تنصیبات سے نمٹا جا سکے ... دنیا میں صرف امریکی فضائیہ وہ واحد طاقت ہے جو اس طرح کا حملہ کر سکتی ہے"۔ واضح رہے کہ ریلک شاویر 1981ء میں عراقی جوہری تنصیب پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں شریک پائلٹوں میں شامل تھے۔

شاویر کے مطابق ایران کے پاس درجنوں جوہری ٹھکانے ہیں جو زمین کی گہرائی میں موجود ہیں۔ اسرائیلی بموں کے لیے ان تک پہنچ کر جلد تباہ کرنا مشکل ہے۔ اسرائلی فضائیہ کے پاس بھی ایسے بڑے جنگی طیارے نہیں ہیں جو ان محفوظ تنصیبات کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے جدید ترین بم لے جا سکیں۔ لہذا تنصیبات کو مسلسل اور بار بار نشانہ بنانا ہو گا۔ اس کارروائی میں کئی دن یہاں تک کہ ہفتے لگ سکتے ہیں۔

امریکی اخبار نے واضح کیا کہ اسرائیل نے طیارہ ساز کمپنی بوئنگ سے"KC 46" ماڈل کے 8 جدید ٹرانسپورٹ طیارے طلب کیے جن کی مالیت 2.4 ارب ڈالر ہے۔ تاہم یہ طیارے فی الوقت دستیاب نہیں ہیں۔ غالب گمان ہے کہ اسرائیل کو 2024ء کے اواخر سے پہلے ان میں سے کوئی طیارہ نہیں ملے گا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اہداف کو نشانہ بنانے کی قدرت سے قطع نظر اسرائیل کو اسی دوران میں ایرانی لڑاکا طیاروں اور فضائی دفاعی نظام سے بھی نمٹنا ہو گا۔ اس لیے کہ تہران پر کسی بھی ممکنہ حملے کے نتیجے میں لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں حماس کی جانب سے بھی انتقامی حملے ضرور کیے جائیں گے۔

اخبار کے مطابق ایران کی دفاعی صلاحیتیں 2012ء کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت ور ہو چکی ہیں۔ وہ آخری سال تھا جب اسرائیل نے ایران پر حملے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا تھا۔

اخبار کے مطابق دوسری جانب بعض دیگر اسرائیلی عسکری ماہرین کے نزدیک اسرائیل کے لیے اب بھی ممکن ہے کہ وہ ایران کے جوہری اداروں کے اہم عناصر کا خاتمہ کر دے۔ یہاں تک کہ یہ کارروائی جدید طیاروں اور ساز و سامان کے بغیر بھی انجام دی جا سکتی ہے۔

اسرائیلی ذمے داران کا کہنا ہے کہ تل ابیب نے جب 2012ء میں ایران پر حملے کے بارے میں سوچا تھا تو اس سے قبل تیاری میں تین برس کا عرصہ لگا تھا۔

اسرائیل کے ایک سینئر عسکری ذمے دار کے مطابق فوج 2019ء سے سابق وزیر اعظم سے اضافی رقم طلب کر رہی تھی۔ اس کا مقصد تہران پر حملے کے واسطے ملک کی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔ تاہم اس مطالبے کو مسترد کر دیا گیا۔

امریکی اخبار کے مطابق اسرائیلی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مالی رقوم کی فراہمی ایران پر حملے کے حوالے سے فوج کی صلاحیت کو زیادہ تبدیل نہیں کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں