جوہری ایران

بوشہر جوہری ری ایکٹر کے نزدیک دھماکوں کی آواز ، تہران نے کیا وضاحت پیش کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں فارس خبر رساں ایجنسی نے بوشہر کے نائب گورنر محمد تقی ایرانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کی صبح بوشہر کے جوہری پلانٹ کے نزدیک سنائی دیے جانے والے دھماکوں کا سبب فضائی دفاعی تربیت تھی جو دفاعی نظام کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کی جا رہی ہے۔

تقی ایرانی کے مطابق مذکورہ تربیت مسلح افواج کے ساتھ مکمل رابطہ کاری سے پیر کو علی الصبح پانج بجے انجام دی گئی۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر سرگرم ایرانی حلقوں نے پیر کی صبح متعدد وڈیو کلپ پوسٹ کیے جن میں بوشہر کے نیوکلیئر ری ایکٹر کے اطراف فضا میں متعدد اجسامی ہتھیار دیکھے گئے۔ ایرانی حلقوں کی جانب سے ٹویٹر پر کہا گیا ہے کہ ری ایکٹر کے اطراف آسمان میں نظر آنے والے غیر مانوس اجسام کو ایرانی فضائی دفاعی نظام نے فضا میں روکا۔

روس کا تعمیر کردہ بوشہر نیوکلیئر ری ایکٹر خلیج کے ساحل پر واقع ہے۔ اس علاقے میں اکثر و بیشتر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔ اس ری ایکٹر کی گنجائش ایک ہزار میگاواٹ توانائی کے مساوی ہے۔ یہ سال 2013ء سے کام کر رہا ہے۔

کچھ عرصے سے ایران کی اہم جوہری تنصیبات میں وقتا فوقتا پراسرار دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ ایرانی حکام ان واقعات کی تفصیلات پر پردہ ڈالے رہتے ہیں تاہم ساتھ ہی ان کا الزام اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس کے سر دھرا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں