سعودی عرب میں نہر زبیدہ کے لیے ریزرو اور میوزیم کے قیام کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ایک دانشور مملکت کے ایک تاریخی اور مشہور چشمے’ عین زبیدہ‘ کو دوبارہ زندہ کرنے ، اس کے لیے ایک خصوصی عجائب گھر قائم کرنے اور علاقے کو زبیدہ ریزرو کے نام سے ایک ریزرو قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ مشرقی مکہ معظمہ میں واقع اس چشمے کی تاریخی اور آثار قدیمہ کی اہمیت کے پیش نظر اسے دوبارہ زندہ کیا جاسکے۔

خیال رہے کہ یہ تاریخی چشمہ خلیفہ ہارون الرشید کی بیوی ملکہ زبیدہ کے حکم پر مشرقی مکہ کی مشہور وادی نعمان میں بنایا گیا تھا۔

اسلامی آثار قدیمہ کے اسسٹنٹ پروفیسر اور شاہ سعود یونیورسٹی کے کالج آف ٹورازم اینڈ آرکیالوجی فار ڈویلپمنٹ اینڈ کوالٹی کے وائس ڈین ڈاکٹر محمد السبیعی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سےگفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس پر عمل درآمد شروع کیا جائے۔ عین زبیدہ کی تعمیر نو کا منصوبہ ایک نمایاں تاریخی نشان کے طور پرتیار کیا جائےکیونکہ یہ چشمہ ایک عرصے تک مکہ معظمہ اور مشاعر مقدسہ کو پانی کی فراہمی کا ذریعہ رہا ہے۔ اسے دوبارہ تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ اس کی بحالی پر غور کیا جانا چاہیے۔ متعلقہ سرکاری اداروں کے ذریعے اس کی تعمیرو ترقی کا عمل شروع ہونا چاہیے۔ یہ کوئی معمولی کنواں نہیں بلکہ 1200 سال تک حجاج کرام اور مکہ کے باشندے اس کنویں کے پانی سے اپنی پیاس بجھاتے رہے ہیں۔ یہ ملکہ زبیدہ کا ایک عظیم کارنامہ تھا اور آج یہ سعودی عرب میں ایک عظیم ثقافتی ورثہ ہے۔

عین زبیدہ کی اہمیت

السبیعی نے کہا عین[چشمہ] زبیدہ ان اہم چشموں میں سے ایک ہے جو ملکہ زبیدہ (145-216ھ/762-831) نے مکہ مکرمہ کے قریب سے نکلوایا تھا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ مکہ معظمہ کے باشندے اور حجاج کرام کو پانی کی شدید قلت کا سامنا رہتا ہے۔ انہوں نے ایک چشمہ کھدوایا مگر اس سے بھی پانی کی کمی دور نہ ہوسکی تو ملکہ زبیدہ نے 36 کلومیٹر مشرق میں وادی نعمان کیجبل کرا کے نیچے مغربی جانب سے ایک نہرکھودنے کا حکم دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں