اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ، یروشلم میں عیسائی وجود بھی خطرے سے دوچار

گرجا گھروں کا مسیحی وجود محدود کرنے کی منظم سازش کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک غیر مسبوق بیان میں فلسطین کے تاریخی شہر مقبوضہ بیت المقدس کے گرجا گھروں کے سربراہوں اور ان کے سرپرستوں نے یہودی انتہا پسند گروپوں پر الزام لگایا ہے وہ ان کی املاک پر قبضے کی کوشش کرکے القدس شہر میں عیسائی وجود کو خطرے سے دوچار کرنے کی سوچی سمجھی سازش کررہے ہیں۔ تاہم دوسری طرف تل ابیب نے ان الزامات کواسرائیل میں مسیحی برادری کی حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔

عیسائیوں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش

کرسمس کے موقع پرعیسائی گرجا گھروں کے سربراہوں نے کہا کہ "انتہا پسند گروہ یروشلم کے پرانے شہر میں عیسائیوں کی موجودگی کو کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ رہائشیوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کے لیے خفیہ لین دین اور ڈرانے دھمکانے کے مکروہ ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں عیسائیوں کی سرگرمیوں میں خلل پڑتا ہے اور بیت لحم اور یروشلم کے درمیان زیارت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی ہوتی ہیں۔

اگرچہ گرجا گھروں کے سربراہوں کے بیان میں عیسائیوں کے لیے ایک محفوظ گھر کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیلی حکومت کے اعلان کردہ عزم کو تسلیم کیا گیا ہے،تاہم انہوں نے اسرائیل کی جانب سے ان انتہا پسند گروہوں کی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکامی کی شکایت کی ہے۔ یہ انتہا پسند گروپ عیسائی برادری کو ڈراتے دھمکاتے ہیں ، پادریوں پر حملہ کرتے ہیں اور مقدس مقامات اور چرچ کی املاک کی بے حرمتی کرتے ہیں۔

اسرائیلی آباد کاری کی انجمنیں جیسے ’عطیرت کوھانیم‘ یروشلم کے پرانے شہر کے عیسائی اکثریتی علاقے میں جائیدادیں خریدنے کے لیے کام کر رہی ہے جن میں سے زیادہ تر آرتھوڈوکس چرچ کی ملکیت ہیں۔

گذشتہ برسوں میں عیسائی مذہبی مقامات پراسرائیلی انتہا پسندوں کے بہت سے حملے دیکھنے میں آئے ہیں۔ طبریا میں طابغہ چرچ کو نذر آتش کیا گیا، چرچ آف ہولی سیپلچر کے چوک میں قبطی راہبوں پر حملہ ہوا اور گذشتہ برس گیتھسیمن چرچ کو جلانے کی کوشش کی گئی۔

بیان میں یروشلم میں انتہا پسند گروپوں کی طرف سے درپیش چیلنجوں پر اسرائیلی، فلسطینی اور اردنی حکومتوں کے ساتھ فوری بات چیت اور یروشلم میں عیسائی پڑوس کی سالمیت کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی عیسائی ثقافتی اور ورثہ زون کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں