اینجلکن چرچ کے الزام کا جواب، عیسائیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اس کی مسیحی آبادی میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے یہ بیان القدس کے تاریخی اینجلک چرچ کی جانب سے اسے "انتہا پسند گروہوں" کے ذریعے نشانہ بنانے کی "مربوط کوشش" کے الزام کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔

اسرائیل کے مرکزی ادارہ شماریات نے منگل کو کہا کہ ملک میں 182,000 عیسائی رہتے ہیں، جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 1.4 فیصد زیادہ ہے۔

اینجلکن آرچ بشپ جسٹن ویلبی نے اسرائیل کو اس وقت اسرائیل کو برہم کیا جب انہوں نے اور یروشلم میں اینجلکن چرچ کے آرچ بشپ حسام ناؤم نے مشرقی یروشلم میں عیسائیوں کی تعداد میں "مسلسل کمی" کی مذمت کی۔

تشدد میں اضافہ

کینٹربری کے آرچ بشپ اور اینجلکن چرچ کے آرچ بشپ نے سنڈے ٹائمز اخبار میں ایک مضمون میں لکھا کہ چرچ کے رہ نماؤں کا اندازہ ہے کہ یروشلم کے پرانے شہر میں آج 2,000 سے بھی کم مسیحی باقی ہیں۔

ان کا خیال تھا کہ عیسائی پادریوں کے خلاف جسمانی اور زبانی تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ اور انتہا پسند گروہوں کی طرف سے مقدس مقامات کی توڑ پھوڑ وہ تمام وجوہات ہیں جو عیسائیوں کو اسرائیل سے نکالنے کی "مربوط کوشش" کا حصہ ہیں۔

ان کا مضمون یروشلم میں مسیحی رہ نماؤں کی 13 دسمبر کو کی گئی اپیل کے تناظر میں آیا جس میں کہا گیا تھا کہ "انتہا پسند گروہ عیسائیوں کی آبادی کو کم کرنے کے مقصد سے کرسچن زون میں اسٹریٹجک جائیدادیں حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پیر کو ایک بیان میں وزارت داخلہ نے کہا کہ اسرائیل میں عیسائی آبادی، بشمول یروشلم کے باشندوں کو مذہب اور عقیدے کی مکمل آزادی حاصل ہے اور ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔یہ اس منفرد مرکب کا حصہ ہے جس کی اسرائیلی معاشرہ نمائندگی کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں