کیا حوثیوں کے ہاں سابق ایرانی سفیر امریکا کا اشتہاری کمانڈر شہلائی تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک سرکاری امریکی ذریعے نے "دی انڈیپنڈنٹ عربیہ" کو جمعرات 23 دسمبر کو تصدیق کی کہ یمن میں حوثی ملیشیا کے لیے ایران کے سفیر حسن ایرلو جن کی ہلاکت کا تہران نے منگل کو اعلان کیا ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کا رکن ہیں۔ وہ کمانڈرعبدالرضا شہلائی نہیں ہیں۔ وہ پاسداران انقلاب کے اہم کمانڈر تھے جن پر امریکا نے اقتصادی پابندیاں عاید کی تھیں۔

امریکی ذریعے کی تصدیق کہ ایرلو اور عبدالرضا شہلائی ایک ہی شخص نہیں ہیں۔ حوثیوں کے لیے ایرانی سفیر کی شناخت کے بارے میں افواہیں اٹھائے جانے کے بعد سامنے آئیں۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "ارنا" کی رپورٹ میں پہلے کہا گیا کہ حسن ایرلو میجر جنرل عبدالرضا شہلائی تھے تاہم بعد ازاں خبر رساں ادارے نے یہ خبر ہٹا دی تھی۔

منگل کے روز ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ یمنی حوثی ملیشیا کے لیے تہران کا سفیر گذشتہ ہفتے کے آخر میں ملک واپس آنے کے بعد انتقال کر گیا تھا۔ وہ کووڈ سے متاثر ہونے کے بعد تہران واپس آئے تھے۔ تاہم ایرلو کی موت کے حوالے سے کئی شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ایک شبہ یہ بھی ہے کہ وہ یمن کی آئینی حکومت کے خلاف لڑائی کے دوران زخمی ہوگئے تھے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ان ممالک کا نام لیے بغیر کہا کہ خطے کے کچھ ممالک کی جانب سے انہیں ایران منتقل کرنے کی درخواست پر ردعمل میں تاخیر کی وجہ سے ان کی موت ہوئی۔

تاہم یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والےعرب اتحاد نے ان بیانات کو "بے بنیاد" قرار دیا۔ اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ اتحاد کی مشترکہ افواج کی قیادت نے سلطنت عمان اورعراق کی ثالثی سے انسانی ہمدردی کے پیش نظر حسن ایرلو کو بیرون اطلاع ملنے کے 48 گھنٹے کے اندر اندر بیرون ملک منتقل کرنے کی سہولت دے دی گئی تھ۔ی

جہاں تک عبدالرضا شہلائی کا تعلق ہے واشنگٹن امریکی فوجیوں کے قتل میں ملوث ہونے پر ان کا تعاقب کر رہا ہے۔امریکا نے شہلائی کی گرفتاری میں مدد کے لیے لاکھوں ڈالر کےانعام کا اعلان کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں