سعودی عرب کا دائر بنی مالک‘جس کی شُہرت 100 تاریخی دیہات ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے جنوب میں جازان کے علاقے میں واقع الدایر بنی مالک گورنری کی خصوصیت پتھروں کی بنی عمارتوں اور قلعوں کی بدولت مشہور ہے۔ اس کی مثال مملکت کے کسی اور مقام پر نہیں ملتی۔ یہان پر تاریخی یادگاریں کہلانے والے ایسے دیہات کی تعداد ایک سو سے زاید ہوچکی ہے۔

الدائر میں انسانی فطرت

بنی مالک کی تاریخ پر نظر رکھنے والے سعودی مورخ یحییٰ الخالدی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ گفت وگوکرتے ہوئے ان پرانے دیہاتوں کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ الدایر گورنری میں قدیم عمارتیں زندگی کی نوعیت کا پتا دیتی ہیں۔ ان سے پتا چلتا ہے کہ عرب لوگ ان پہاڑوں میں رہتے تھے۔ ان کے قرب وجوار میں زرخیز وادیاں، اونچے پہاڑ اور ان کی چوٹیاں تھیں جو ان کے لیے فطری زندگی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ عظیم عمارتیں مضبوطی اور نفاست کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان میں سے بعض عمارتیں سات منزلوں تک صحیح زاویہ پر پہنچی ہیں۔ کچھ گول عمارتیں ہیں۔ ان کی شان اور تعمیر کے معیار نے انہیں سینکڑوں سالوں تک تمام فطری اور موسمی حالات کا سامنا کرتے ہوئے ثابت قدم رکھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب چھتوں کو دیکھتے ہیں تو وہ لکڑ کی بنائی گئی ہیں۔ یہ لکڑی آس پاس موجود اس علاقے میں پھیلے ہوئے درختوں کی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر جونیپر اور دیودار کی ہیں۔چھت کئی تہوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ پہلی مستول ہے، جو درمیان میں بہت بڑی لکڑی ہے۔

پتھر کی عمارتیں

الخالدی نے کہا پتھر کی عمارتیں بتاتی ہیں کہ وہ یہ اپنے دور کے فن تعمیر کے شاہکار ہیں۔ جہاں سردیوں میں گرمی اور گرمیوں میں موسم کومعتدل رکھنے کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا۔ ان عمارتوں میں سیڑھیاں، باورچی خانے اور دیگر ضرورت کے کمرے ہیں۔ تاکہ سیڑھیوں کے اوپری حصے میں ایک طرف چمنی ہے دھواں نکلتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ عمارتوں کے سامنے والے حصے کو سفید پٹی سے سجایا جاتا ہے یا مٹی سے پلستر کیا جاتا ہے۔ کھڑکیوں کو گرل کرنے کے لیے لوہے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بہت مضبوط دروازے بنانے کے لیے لکڑی کا استعمال کیا جاتا ہے اور ان کے لیے لکڑی کے تالے اور لوہے کی چابیاں استعمال کی جاتی ہیں۔

عمارت کون بناتا ہے؟

ان عظیم عمارتوں کو کون تعمیر کرتا ہے؟ اس کے بارے میں الخالدی کہتے ہیں کہ ماہرین کو بانی یا عمار کہا جاتا ہے۔ بنی مالک کے پتھروں کے سب سے مشہور دیہاتوں میں جبل خاشر میں الثاہر اور خاشر گاؤں، مسیجد گاؤں، الخطم، القریثہ، منصیہ، عثوان، جبل آل سعید میں عثوان،آل قطیل، البن اور القزعہ خاص طور پر شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں