جوہری ایران

اسرائیلی جوہری ری ایکٹر پر تمثیلی حملے کی مشق کی گئی : پاسداران انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی پاسداران انقلاب کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران کے جنوب میں خلیج اور آبنائے ہرمز میں ہونے والی حالیہ فوجی مشقوں کے دوران میں "اسرائیل میں ڈیمونہ جوہری ری ایکٹر" پر حملے کی فرضی تمثیل انجام دی گئی۔ یہ اعلان عبرانی میڈیا کی اُن رپورٹوں کے جواب میں سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی فرضی تمثیل کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

پاسداران انقلاب کے زیر انتظام خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ڈیمونہ ری ایکٹر پر حملے کی تمثیل ایرانی پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے ذریعے انجام دی گئی۔ اس میں 16 بیلسٹک میزائل اور 5 خود کش ڈرون طیاروں کا استعمال کیا گیا۔

حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی اور ایرانی ذمے داران کے بیچ بیانات کی جنگ اور تناؤ اپنے عروج پر پہنچ گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو ایران پر حملے سے متعلق اسرائیلی فوج کے ٹائم ٹیبل سے آگاہ کر دیا ہے۔

ایک امریکی سینئر ذمے دار 8 دسمبر کو یہ کہہ چکے ہیں کہ سفارتی راستے ناکام ہو جانے کی صورت میں امریکی اور اسرائیلی ذمے داران ایرانی جوہری تنصیبات پر تمثیلی حملے کی فوجی مشقوں کو زیر بحث لائیں گے۔

فارسی زبان کے امریکی ریڈیو چینل "فردا" نے اسرائیلی میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج "ایرانی جوہری تنصیبات پر تمثیلی حملے" کے سلسلے میں آئندہ موسم بہار میں بحیرہ روم کے اوپر وسیع پیمانے کی فوجی مشق کرے گی۔

ادھر 24 دسمبر کو ایرانی پاسداران انقلاب کی فوجی مشقوں کے اختتام پر پاسداران کے سربراہ حسین سلامی نے مشقوں کو اسرائیل کے لیے "سنجیدہ ، حقیقی اور زمینی تنبیہہ" قرار دیا۔ اسی طرح ایرانی مسلح افواج کے سربراہ محمد باقری کے مطابق بیلسٹک میزائل کی تربیتی مشقیں اسرائیل کو جواب دینے کے واسطے انجام دی گئیں۔

واضح رہے کہ ایرانی میزائلوں کے ذریعے اسرائیل کے ڈیمونہ ری ایکٹر پر کوئی بھی حملہ فلسطین کے تمام حصوں پر مرکزی طور سے اثر انداز ہو گا۔ اسی طرح یہ اقدام پڑوسی عرب ممالک کو بھی متاثر کرے گا۔ ان میں اردن، سعودی عرب اور مصر شامل ہیں۔ یہ صورت حال ممکنہ طور پر لاکھوں افراد کی موت کا باعث بن سکتی ہے۔

یاد رہے کہ عالمی سلامتی کونسل کی قرار داد 2231 کے تحت ایران کے لیے نیوکلیئر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائل تیار کرنا ممنوع ہے۔ اس کے مقابل تہران کا دعوی ہے کہ اس کے میزائل نیوکلیئر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ لہذا وہ اپنے متنازع میزائل پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں