سعودی عرب پر حوثیوں کا حملہ: پاکستان، امریکہ اور امارات کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب پر یمن سے کیے جانے والے بیلسٹک میزائل اس حملے کی عالمی سطح پر بھی مذمت میں پاکستان نے بھی اپنی آواز شامل کی ہے۔ یاد رہے کہ جمعے کو سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے میں بیلسٹک میزائل حملے میں سات افراد زخمی جبکہ دو افراد جاں بحق ہوئے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق جازان میں حوثیوں کے اس حملے میں ایک یمنی باشندہ جبکہ ایک سعودی شہری مارا گیا ہے پریس ایجنسی کے مطابق حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں میں چھ سعودی اور ایک بنگلہ دیش شہری شامل ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے سنیچر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان حوثیوں کی جانب سے جازان میں اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے اور شہری آبادی کو نقصان پہنچا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ایسے حملے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ سعودی عرب اور خطے کے امن اور سکیورٹی کے لیے خطرہ بھی ہیں۔‘

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور سکیورٹی کو کسی بھی خطرے کی صورت میں سپورٹ اور یک جہتی کا یقین دلاتا ہے۔‘

ادھر عرب پارلیمنٹ اور خلیج تعاون کونسل نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’حوثی شدت پسند ملیشیا کی جانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کا بزدلانہ عمل‘ قرار دیا ہے۔

بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کے حملوں سے شہریوں اور ان کی املاک کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات لینے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاريانی کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے حملے سعودی عرب میں رہنے والے دو ملین یمنیوں کے لیے خطرہ ہیں۔

ریاض میں امریکی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ ’ملیشیا کے حملے تنازع کو دوام اور یمنی عوام کی مشکلات کو طول دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سعودی اور سعودی عرب میں رہنے والے 70 ہزار امریکی شہریوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں