سعودی ویٹرنری کی گھوڑوں کے آرٹسٹ تک سفر کی روداد

’گھوڑوں سے محبت نے ویٹرنری ڈاکٹر سے آرٹسٹ بنا دیا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے ایک ویٹرنری ڈاکٹرنے گھوڑوں کے لیے ایک خصوصی مرکز میں کام کرنے کے لیے یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔ اس دوران اسے اندازہ ہوا کہ اس کےاندر ایک آرٹسٹ چھپا ہوا ہے اور وہ اپنی صلاحیتوں کو آرٹ کے میدان میں بھی استعمال کرسکتا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے گھوڑوں کے آرٹ میں عالمی شہرت حاصل کی۔ وہ خالص عربی نسل کے گھوڑوں کی خصوصیات کو نمایاں کرنے میں کامیاب رہا۔

سعودی آرٹسٹ ابراہیم بالحمر
سعودی آرٹسٹ ابراہیم بالحمر

سعودی آرٹسٹ "ابراہیم بالحمر" نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مُجھے بچپن سے ہی ڈرائنگ کا ہنر حاصل تھا لیکن میں نے اس پر کبھی توجہ نہیں دی۔ جب میں نے قاہرہ یونیورسٹی سےمیڈیسن آف "ویٹرنری" میں مہارت حاصل کی توشاہ عبدالعزیز سنٹر فار عربین ہارسز میں کام شروع کیا۔

میں نے زخمی گھوڑوں کی دیکھ بھال شروع کی تومیری محبت خالص نسل کے عربی گھوڑوں سے شروع ہوئی جس کی وجہ سے میں نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو دریافت کرنے اور گھوڑوں کی خوبصورتی کو حقیقت میں رنگنے کے لیے خود کو دوبارہ تیار کیا۔

بالحمرنے کہا کہ میں نے 1996ء میں اپنا پہلا آرٹ ورک مکمل کیا۔ میں نے آرٹ کے لیےایسے مواد کا استعمال کیا جو ڈرائنگ کے لیے موزوں نہیں تھے، جس کی وجہ آرٹ کی دنیا سے میری بے حد لاعلمی تھی۔

اس ضمن میں نے آرٹ ورک کے لیے ٹینٹ سیل استعمال کیے۔ ٹھوس رنگوں کو ڈیزل سے ہلکا کرنے کی کوشش کی۔ مگر میں نے اس آرٹ کو سیکھنے اور گھوڑوں سے اپنے عشق کو آرٹ کی شکل میں پیش کرنے کا عمل جاری رکھا۔ بہت جلد میں نے یہ مرحلہ طے کرلیا۔ آج میرا شمار سعودی عرب کے گھوڑوں کے بڑے اور معتبر آرٹسٹوں میں ہوتا ہے۔

سعودی آرٹ کی حمایت

مصور الحمر نے ایک ترقیاتی تجویز پیش کی جس کا مقصد مستند سعودی فن کی حمایت میں تعاون کرنا ہے۔ ان کے کاموں کو اجاگر کرنے کے لیے انھیں نئے افق کی طرف لے جایا جائے جو ان کے اہداف اور فنی مستقبل کی خدمت کرتے ہیں، جسے انھوں نے اپنے فنی کیریئر کے آغاز میں تیار کیا تھا۔

الحمرنے جدہ کے مرکز میں منعقد ہونے والے تاریخی جدہ فیسٹیول میں اپنی ذاتی نمائش میں شرکت کے دوران کہا کہ میں سعودی وزارت ثقافت کو مشورہ دیتا ہوں کہ تمام سعودی آرٹسٹوں کے لیے ذاتی فائلیں بنائیں۔ ان کے آرٹ ورک کی روشنی میں فہرستیں مرتب کی جائیں۔ اس کے بعد ان فہرستوں کی ایک کمیٹی کے ذریعے چھان بین کی جائے اور ان میں سے مختلف ماہر آرٹسٹوں کو عالمی اور علاقائی نمائشوں میں شرکت کا موقع دیا جائے۔

فن پارے

الحمر نے کہا کہ میرے پاس عربی گھوڑوں اور لوک گھروں کی تقریباً 900 پینٹنگز ہیں جو سعودی عرب کی قدیم ثقافت اور تاریخ کی عکاسی کرتی ہیں۔ میں اپنے آرٹ فن پاروں کی تعداد ایک ہزار سے زاید کرنا چاہتا ہوں تاکہ گنیز ورلڈ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکوں۔ اس نے بتایا کہ میں گذشتہ چھبیس سال سے آرٹ کے کام میں مصروف ہوں اور یہ میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں